🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

681. -- باب: من تقدم أو تأخر في صلاته من موضع إلى موضع
-- باب: اس شخص کا بیان جو نماز میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آگے یا پیچھے ہٹا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3434
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ: عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ سُورَةً طَوِيلَةً ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ سُورَةً أُخْرَى ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَاهَا وَسَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الثَّانِيَةِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ ⦗٣٧٦⦘ فَصَلُّوا حَتَّى تُفَرَّجَ عَنْكُمْ لَقَدْ رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُمْ، حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ وَرَأَيْتُ فِيهَا عَمْرَو بْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ.
عروہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سورج گہن ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، لمبی سورت پڑھی، پھر دیر تک رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر دوسری سورت شروع کر دی، پھر اس سورت کو مکمل کرنے کے بعد رکوع کیا پھر سجدہ کیا۔ اس کے بعد دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ پھر فرمایا: ”یہ (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیاں ہیں، جب تم اس طرح کا کوئی کام دیکھو تو نماز پڑھو حتیٰ کہ وہ تم سے دور کر دی جائے۔ یقیناً میں نے اپنے اس قیام میں ہر وہ چیز دیکھی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اور میں نے اپنے آپ کو بھی دیکھا جب تم مجھے آگے بڑھتا دیکھ رہے تھے تو اس وقت میں نے جنت سے ایک خوشہ لینا چاہا تھا اور میں نے جہنم بھی دیکھی کہ اس کا بعض بعض کو کھا رہا تھا جس وقت تم مجھے پیچھے ہٹتا دیکھ رہے تھے اور جہنم میں میں نے عمرو بن لحی کو دیکھا تھا، یہ وہی بدبخت ہے جس نے بتوں کے نام پر جانور چھوڑنے کی بدعت کی بنیاد ڈالی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3434]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ سبأتي تخريجه في كتاب صلاة الكسوف»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3435
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ثنا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ وَقَالَ فِيهِ:" ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَتَقَدَّمَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ" وَالْحَدِيثُ بِتَمَامِهِ مُخَرَّجٌ فِي كِتَابِ صَلَاةِ الْخُسُوفِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا۔ انہوں نے نمازِ خسوف کے بارے میں مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی جگہ سے پیچھے ہٹے تو لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے ہٹے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے تو لوگ بھی آگے بڑھ گئے۔
(ب) یہ مکمل حدیث ان شاء اللہ ”کتاب صلاۃ الخسوف“ میں آ رہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3435]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3436
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا بُرْدٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" جِئْتُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْبَيْتِ وَالْبَابُ مُغْلَقٌ عَلَيْهِ فَمَشَى حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ قَالَتْ: وَالْبَابُ فِي الْقِبْلَةِ" لَفْظُ حَدِيثِ بِشْرٍ، وَفِي حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَتْ:" كَانَ الْبَابُ فِي قِبْلَةِ مَسْجِدِنَا هَذَا فَاسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ، فَمَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي حَتَّى فَتَحَ الْبَابَ، ثُمَّ رَجَعَ رَاجِعًا، يَعْنِي إِلَى مَكَانِهِ".
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں نماز پڑھ رہے تھے اور دروازہ بند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل کر آئے۔ میری خاطر دروازہ کھولا اور پھر واپس اپنی جگہ جا کھڑے ہوئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دروازہ قبلے کی طرف تھا۔
(ب) یہ بشر کی حدیث کے الفاظ ہیں اور علی بن عاصم کی حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دروازہ ہماری اس مسجد کے قبلہ کی سمت میں تھا۔ میں نے دروازہ کھولنے کے لیے دستک دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازہ کھول کر واپس اپنی جگہ تشریف لے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3436]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الترمزي 60»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3437
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمَذَانَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: كُنَّا بِالْأَهْوَازِ نُقَاتِلُ الْحَرُورِيَّةَ فَبَيْنَا أَنَا عَلَى جُرُفِ نَهَرٍ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَإِذَا لِجَامُ دَابَّتِهِ بِيَدِهِ فَجَعَلَتِ الدَّابَّةُ تُنَازِعُهُ وَجَعَلَ يَتْبَعُهَا قَالَ: شُعْبَةُ هُوَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ قَالَ: وَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَوَارِجِ يَقُولُ: اللهُمَّ افْعَلْ بِهَذَا الشَّيْخِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ الشَّيْخُ قَالَ:" إِنِّي سَمِعْتُ قَوْلَكُمْ وَإِنِّي قَدْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ ثَمَانِ غَزَوَاتٍ وَشَهِدْتُ تَيْسِيرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَنْ كُنْتُ أَرْجِعُ مَعَ دَابَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَدَعَهَا تَذْهَبُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقَّ عَلَيَّ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
(ا) ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ ہم اہواز (وہ بستیاں جو ایران اور بصرہ کے درمیان ہیں) میں خارجیوں سے لڑ رہے تھے، میں نہر کے کنارے بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک شخص (ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ) گھوڑے کی لگام ہاتھ میں لیے نماز پڑھنے لگے، گھوڑا ان کو کھینچنے لگا اور وہ اس کے پیچھے جانے لگے۔
(ب) شعبہ کہتے ہیں: وہ شخص ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ دیکھ کر ایک خارجی کہنے لگا: اے اللہ! اس بوڑھے کا ناس کر۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ، سات یا آٹھ غزوے کیے ہیں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آسانی دیکھ چکا ہوں جو آپ لوگوں پر کرتے تھے اور مجھے تو یہ پسند ہے کہ اپنا گھوڑا ساتھ لے کر لوٹوں نہ کہ اس کو چھوڑ دوں کہ وہ جہاں چاہے چل دے اور بعد میں میں تکلیف محسوس کروں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3437]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1153»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3438
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ⦗٣٧٧⦘ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كُنَّا نُقَاتِلُ الْأَزَارِقَةَ بِالْأَهْوَازِ مَعَ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ قَالَ: فَجَاءَ أَبُو بَرْزَةَ فَأَخَذَ بِمِقْوَدِ بِرْذَوْنِهِ أَوْ دَابَّتِهِ قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي إِذْ أَفْلَتَ مِنْ يَدِهِ فَمَضَتِ الدَّابَّةُ فِي قِبْلَتِهِ فَانْطَلَقَ أَبُو بَرْزَةَ حَتَّى أَخَذَهَا ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرِيَّ، فَقَالَ رَجُلٌ وَكَانَ يَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ وَنَالَ مِنْهُ أَنَّهُ تَرَكَ صَلَاتَهُ وَانْطَلَقَ إِلَى دَابَّتِهِ، قَالَ: فَأَقْبَلَ أَبُو بَرْزَةَ لَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، فَقَالَ:" إِنِّي غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، أَوْ قَالَ: مَرَّاتٍ، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ وَلَوْ أَنَّ دَابَّتِي ذَهَبَتْ إِلَى مَأْلَفِهَا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيَّ فَصَنَعْتُ مَا رَأَيْتُمْ قَالَ: فَقُلْنَا لِلرَّجُلِ: مَا أَرَى اللهَ إِلَّا يَجْزِيكَ، سَبَبْتَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ ہم ”اہواز“ میں مہلب بن ابی صفرہ کے ساتھ خارجیوں سے لڑ رہے تھے۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، وہ اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے تھے، آپ نماز پڑھنے لگے، اچانک سواری آپ کے ہاتھوں سے نکل کر قبلہ رخ چل پڑی، حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بھی اس کے پیچھے چل پڑے حتیٰ کہ اس کو پکڑ لیا۔ پھر الٹے پاؤں واپس پلٹے تو ایک خارجی کہنے لگا: اس بوڑھے کو دیکھو، نماز چھوڑ کر سواری کو پکڑنے لگا ہے۔ ازرق کہتے ہیں: جب حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو اس کے پاس آکر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات جنگیں لڑی ہیں اور میں بوڑھا ہوں، اگر میری یہ سواری بھی چلی جاتی تو میں مصیبت میں پڑ جاتا، اس لیے میں نے یہ کام کیا جو تم دیکھ رہے ہو۔ ازرق کہتے ہیں: ہم نے اس آدمی کو کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو گالی دی ہے، اللہ ضرور تجھے اس کا بدلہ دے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3438]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں