السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
681. -- باب: من تقدم أو تأخر في صلاته من موضع إلى موضع
-- باب: اس شخص کا بیان جو نماز میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آگے یا پیچھے ہٹا
حدیث نمبر: 3437
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمَذَانَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: كُنَّا بِالْأَهْوَازِ نُقَاتِلُ الْحَرُورِيَّةَ فَبَيْنَا أَنَا عَلَى جُرُفِ نَهَرٍ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَإِذَا لِجَامُ دَابَّتِهِ بِيَدِهِ فَجَعَلَتِ الدَّابَّةُ تُنَازِعُهُ وَجَعَلَ يَتْبَعُهَا قَالَ: شُعْبَةُ هُوَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ قَالَ: وَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَوَارِجِ يَقُولُ: اللهُمَّ افْعَلْ بِهَذَا الشَّيْخِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ الشَّيْخُ قَالَ:" إِنِّي سَمِعْتُ قَوْلَكُمْ وَإِنِّي قَدْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ ثَمَانِ غَزَوَاتٍ وَشَهِدْتُ تَيْسِيرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَنْ كُنْتُ أَرْجِعُ مَعَ دَابَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَدَعَهَا تَذْهَبُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقَّ عَلَيَّ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
(ا) ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ ہم اہواز (وہ بستیاں جو ایران اور بصرہ کے درمیان ہیں) میں خارجیوں سے لڑ رہے تھے، میں نہر کے کنارے بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک شخص (ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ) گھوڑے کی لگام ہاتھ میں لیے نماز پڑھنے لگے، گھوڑا ان کو کھینچنے لگا اور وہ اس کے پیچھے جانے لگے۔
(ب) شعبہ کہتے ہیں: وہ شخص ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ دیکھ کر ایک خارجی کہنے لگا: اے اللہ! اس بوڑھے کا ناس کر۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ، سات یا آٹھ غزوے کیے ہیں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آسانی دیکھ چکا ہوں جو آپ لوگوں پر کرتے تھے اور مجھے تو یہ پسند ہے کہ اپنا گھوڑا ساتھ لے کر لوٹوں نہ کہ اس کو چھوڑ دوں کہ وہ جہاں چاہے چل دے اور بعد میں میں تکلیف محسوس کروں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3437]
(ب) شعبہ کہتے ہیں: وہ شخص ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ دیکھ کر ایک خارجی کہنے لگا: اے اللہ! اس بوڑھے کا ناس کر۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ، سات یا آٹھ غزوے کیے ہیں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آسانی دیکھ چکا ہوں جو آپ لوگوں پر کرتے تھے اور مجھے تو یہ پسند ہے کہ اپنا گھوڑا ساتھ لے کر لوٹوں نہ کہ اس کو چھوڑ دوں کہ وہ جہاں چاہے چل دے اور بعد میں میں تکلیف محسوس کروں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3437]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1153»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3437 in Urdu