السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
702. -- باب:: لا يمسح وجهه من التراب في الصلاة حتى يسلم
-- باب: نمازی جب تک سلام نہ پھیر لے نماز میں اپنے چہرے سے مٹی صاف نہ کرے
حدیث نمبر: 3551
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْوَسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْ صَبِيحَتَهَا مِنَ اعْتِكَافِهِ، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَعْتَكِفِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي صَبِيحَتِهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ" قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَمْطَرَتِ السَّمَاءُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ عَلَيْنَا وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ قَالَ: الْبُخَارِيُّ كَانَ الْحُمَيْدِيُّ يَحْتَجُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي أَنْ لَا يَمْسَحَ الْجَبْهَةَ فِي الصَّلَاةِ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُئِيَ الْمَاءُ وَالطِّينُ فِي أَرْنَبَتِهِ وَجَبْهَتِهِ بَعْدَمَا صَلَّى.
(ا) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرہ میں دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے۔ ایک سال آپ نے اعتکاف کیا حتیٰ کہ جب اکیسویں رات ہوئی جو اعتکاف سے نکلنے والی رات ہے تو فرمایا: ”جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری عشرے میں بھی اعتکاف کریں۔ میں نے اس رات (شب قدر) کو دیکھ لیا تھا پھر وہ مجھے بھلا دی گئی اور میں نے خود کو اگلی صبح پانی اور مٹی میں سجدہ کرتے دیکھا ہے، پس اس کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔“
(ب) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس رات بارش ہوئی، مسجد کی چھت ٹہنیوں اور شاخوں سے بنی ہوئی تھی اس لیے وہ ٹپک پڑی۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری آنکھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک اور ناک پر کیچڑ کے نشان دیکھے اور وہ اکیسویں صبح تھی۔
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حمیدی اس حدیث سے دلیل لیتے تھے کہ آدمی نماز میں اپنی پیشانی کو صاف نہ کرے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جبین اطہر اور ناک پر نشان آپ کے نماز پڑھ لینے کے بعد دیکھا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3551]
(ب) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس رات بارش ہوئی، مسجد کی چھت ٹہنیوں اور شاخوں سے بنی ہوئی تھی اس لیے وہ ٹپک پڑی۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری آنکھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک اور ناک پر کیچڑ کے نشان دیکھے اور وہ اکیسویں صبح تھی۔
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حمیدی اس حدیث سے دلیل لیتے تھے کہ آدمی نماز میں اپنی پیشانی کو صاف نہ کرے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جبین اطہر اور ناک پر نشان آپ کے نماز پڑھ لینے کے بعد دیکھا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3551]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1983»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3552
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" أَرْبَعٌ مِنَ الْجَفَاءِ: أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ قَائِمًا، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ يَسْتُرُهُ، وَمَسْحُ الرَّجُلِ التُّرَابَ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ، وَأَنْ يَسْمَعَ الْمُؤَذِّنَ فَلَا يُجِيبَهُ فِي قَوْلِهِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْجُرَيْرِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَالنَّفْخُ فِي الصَّلَاةِ" بَدَلَ الْمُرُورِ وَلَمْ يَقُلْ: أَرْبَعٌ قَالَ الْبُخَارِيُّ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ يَضْطَرِبُونَ فِيهِ.
(ا) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”چار چیزیں بے مروتی میں سے ہیں: (1) کھڑے ہو کر پیشاب کرنا، (2) ایسی جگہ نماز پڑھنا جہاں لوگ سامنے سے گزر رہے ہوں اور نمازی اور گزرنے والوں کے درمیان کوئی سترہ نہ ہو، (3) دورانِ نماز اپنے چہرے سے مٹی صاف کرنا اور (4) اذان کا جواب نہ دینا۔“
(ب) اسی طرح یہ روایت عبداللہ بن بریدہ سے، وہ اپنے والد سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم معنی منقول ہے، اس میں نمازی کے سامنے سے گزرنے کی جگہ ”نماز میں پھونک مارنا“ بیان کیا ہے اور چار کا عدد بھی نہیں بولا۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، راوی اس میں اضطراب کا شکار ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3552]
(ب) اسی طرح یہ روایت عبداللہ بن بریدہ سے، وہ اپنے والد سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم معنی منقول ہے، اس میں نمازی کے سامنے سے گزرنے کی جگہ ”نماز میں پھونک مارنا“ بیان کیا ہے اور چار کا عدد بھی نہیں بولا۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، راوی اس میں اضطراب کا شکار ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3552]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه البخاري في تاريخه 3/ 495»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3553
قَالَ الشَّيْخُ وَقَدْ رَوَاهُ هَارُونُ بْنُ هَارُونَ التَّيْمِيُّ الْمَدَنِيُّ عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَرْبَعٌ مِنَ الْجَفَاءِ: يَبُولُ الرَّجُلُ قَائِمًا، أَوْ يُكْثِرُ مَسْحَ جَبْهَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ، أَوْ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ فَلَا يَقُولُ مِثْلَ مَا يَقُولُ، أَوْ يُصَلِّي بِسَبِيلِ مَنْ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُوأَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدِّمَشْقِيُّ ثنا دُحَيْمٌ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهُدَيْرِ التَّيْمِيُّ فَذَكَرَهُ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: أَحَادِيثُهُ عَنِ الْأَعْرَجِ، وَغَيْرِهِ مِمَّا لَا يُتَابِعُهُ الثِّقَاتُ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: ثنا الْجُنَيْدِيُّ ثنا الْبُخَارِيُّ قَالَ: هَارُونُ بْنُ هَارُونَ لَا يُتَابَعُ فِي حَدِيثِهِ يَرْوِي عَنِ الْأَعْرَجِ يُقَالُ: هُوَ أَخُو مُحْرِزٍ التَّيْمِيِّ الْمَدَنِيِّ قَالَ الشَّيْخُ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا يَمْسَحُ وَجْهَهُ مِنَ التُّرَابِ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يَتَشَهَّدَ وَيُسَلِّمَ.
(ا) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث دوسری سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار چیزیں بے مروتی میں سے ہیں: (1) آدمی کا کھڑے ہو کر پیشاب کرنا، (2) نماز سے فارغ ہونے سے پہلے بکثرت پیشانی صاف کرنا، (3) جواب نہ دینا، اور (4) ایسے راستے میں نماز پڑھنا جہاں وہ اس کی نماز کو توڑیں۔“
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آدمی نماز میں اپنے چہرے سے اس وقت تک مٹی صاف نہ کرے جب تک تشہد اور سلام سے فارغ نہ ہو جائے۔
اس کے راوی ہارون بن ہارون کی اعرج سے روایات میں ثقہ راوی ان کی متابعت نہیں کرتے، اور یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے جو سب ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3553]
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آدمی نماز میں اپنے چہرے سے اس وقت تک مٹی صاف نہ کرے جب تک تشہد اور سلام سے فارغ نہ ہو جائے۔
اس کے راوی ہارون بن ہارون کی اعرج سے روایات میں ثقہ راوی ان کی متابعت نہیں کرتے، اور یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے جو سب ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3553]
تخریج الحدیث: «منكر۔ الارواء 1/ 97»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3554
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَاضِرٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ:" لَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى الْإِنْسَانِ مَا دَامَ أَثَرُ السُّجُودِ فِي وَجْهِهِ" قَالَ الْعَبَّاسُ: لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ غَيْرُهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ عَدَّهُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ لَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا.
عبید بن عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب تک سجدے کا نشان آدمی کے چہرے میں رہتا ہے، فرشتے مسلسل اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔
عباس کہتے ہیں: اسے ان (محاضر) کے سوا کسی نے بیان نہیں کیا۔ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ اسے بے مروتی میں شمار کرتے تھے، اور حسن رحمہ اللہ سے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3554]
عباس کہتے ہیں: اسے ان (محاضر) کے سوا کسی نے بیان نہیں کیا۔ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ اسے بے مروتی میں شمار کرتے تھے، اور حسن رحمہ اللہ سے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3554]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابو نعيم في الحلية 3/ 272»
الحكم على الحديث: حسن