السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
702. -- باب: : لا يمسح وجهه من التراب في الصلاة حتى يسلم
-- باب: نمازی جب تک سلام نہ پھیر لے نماز میں اپنے چہرے سے مٹی صاف نہ کرے
حدیث نمبر: 3552
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" أَرْبَعٌ مِنَ الْجَفَاءِ: أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ قَائِمًا، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ يَسْتُرُهُ، وَمَسْحُ الرَّجُلِ التُّرَابَ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ، وَأَنْ يَسْمَعَ الْمُؤَذِّنَ فَلَا يُجِيبَهُ فِي قَوْلِهِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْجُرَيْرِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَالنَّفْخُ فِي الصَّلَاةِ" بَدَلَ الْمُرُورِ وَلَمْ يَقُلْ: أَرْبَعٌ قَالَ الْبُخَارِيُّ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ يَضْطَرِبُونَ فِيهِ.
(ا) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”چار چیزیں بے مروتی میں سے ہیں: (1) کھڑے ہو کر پیشاب کرنا، (2) ایسی جگہ نماز پڑھنا جہاں لوگ سامنے سے گزر رہے ہوں اور نمازی اور گزرنے والوں کے درمیان کوئی سترہ نہ ہو، (3) دورانِ نماز اپنے چہرے سے مٹی صاف کرنا اور (4) اذان کا جواب نہ دینا۔“
(ب) اسی طرح یہ روایت عبداللہ بن بریدہ سے، وہ اپنے والد سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم معنی منقول ہے، اس میں نمازی کے سامنے سے گزرنے کی جگہ ”نماز میں پھونک مارنا“ بیان کیا ہے اور چار کا عدد بھی نہیں بولا۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، راوی اس میں اضطراب کا شکار ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3552]
(ب) اسی طرح یہ روایت عبداللہ بن بریدہ سے، وہ اپنے والد سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم معنی منقول ہے، اس میں نمازی کے سامنے سے گزرنے کی جگہ ”نماز میں پھونک مارنا“ بیان کیا ہے اور چار کا عدد بھی نہیں بولا۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، راوی اس میں اضطراب کا شکار ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3552]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه البخاري في تاريخه 3/ 495»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3552 in Urdu