🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

722. -- باب: الرجل يصلي وحده ثم يدركها مع الإمام
-- باب: اس شخص کا بیان جو اکیلے نماز پڑھے پھر اسے امام کے ساتھ پا لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3636
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ ⦗٤٢٦⦘ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كَانَ أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ فَسَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ فَضَرَبَ فَخِذِي، فَقَالَ: سَأَلْتُ خَلِيلِي، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ فَخِذِي فَقَالَ:" صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَنْ أُصَلِّيَ مَعَهُمْ".
عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ امراء میں سے ایک شخص نماز کو مؤخر کر کے ادا کرتا تھا۔ میں نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا: میں نے اپنے خلیل یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر ادا کر، اس کے بعد اگر تو لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے پالے تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لے اور یہ نہ کہہ کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، اب میں تمہارے ساتھ نماز نہیں پڑھوں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3636]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 648»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3637
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: أَخَّرَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الصَّامِتِ فَسَأَلْتُهُ فَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ: سَأَلْتُ خَلِيلِي أَبَا ذَرٍّ فَضَرَبَ فَخِذِي: وَقَالَ: سَأَلْتُ خَلِيلِي، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ فَخِذِي فَقَالَ:" صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ.
حضرت ابوعالیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبیداللہ بن زیاد رحمہ اللہ نے نماز مؤخر کر کے ادا کی تو میں حضرت عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ سے ملا، انہوں نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا: میں نے اپنے خلیل حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے اپنے خلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر ادا کر، اگر تو جماعت کو پا لے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لے اور یہ نہ کہہ کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، اب نہیں پڑھتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3637]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3638
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ، عَنْ أَبِيهِ مِحْجَنٍ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ كَمَا هُوَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَكِنِّي يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي قَالَ:" فَإِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ".
حضرت بسر بن محجن رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے، نماز کے لیے اذان کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی۔ پھر لوٹے تو حضرت محجن رضی اللہ عنہ آپ کی مجلس میں اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا: ”تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کون سی چیز نے روکا ہے؟ کیا تو مسلمان نہیں ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! لیکن میں نے اپنے گھر نماز پڑھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم آؤ تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو اگرچہ تم نے نماز پڑھ لی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3638]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه مالك 2096»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3639
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ.
حضرت امام شافعی رحمہ اللہ اپنی سند سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3639]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الشافعي 1038»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3640
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنِ الْحَمَامِيِّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ بِمِنًى فَجَاءَ رَجُلَانِ حَتَّى وَقَفَا عَلَى رَوَاحِلِهِمَا فَأَمَرَ بِهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ لَهُمَا:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتُمَا مُسْلِمَيْنِ؟" قَالَا: بَلَى ⦗٤٢٧⦘ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، فَقَالَ لَهُمَا:" إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا الْإِمَامَ فَصَلَّيَا مَعَهُ فَإِنَّهُمَا لَكُمَا نَافِلَةٌ".
سیدنا جابر بن یزید بن اسود رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی تو دو آدمی آئے اور اپنی سواریوں پر ہی رک گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلانے کا حکم دیا۔ وہ گھبراہٹ کے عالم میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! لیکن ہم نے تو گھر میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ بھی لو، پھر تم جماعت کو پالو تو جماعت کے ساتھ بھی پڑھو، وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3640]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 575»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3641
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَفِيفَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ: يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَأُصَلِّي مَعَهُمْ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا؟ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ذَلِكَ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ".
بنو اسد بن خزیمہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر مسجد میں آئے اور وہاں نماز ہو رہی ہو تو کیا ان کے ساتھ بھی نماز پڑھے؟ میرے دل میں اضطراب سا رہتا ہے۔ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم نے اس سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ”اس کے لیے دوہرا ثواب ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3641]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 178»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3642
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَفِيفِ بْنِ عُمَرَ السَّهْمِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، فَقَالَ: إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ آتِي الْمَسْجِدَ فَأَجِدُ الْإِمَامَ يُصَلِّي، فَأُصَلِّي مَعَهُ؟ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: نَعَمْ مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ فَإِنَّ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَهْمِ جَمْعٍ".
ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ بنو اسد کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر مسجد کو آتا ہوں تو امام کو نماز پڑھاتے ہوئے پاتا ہوں تو کیا میں اس کے ساتھ نماز پڑھ لیا کروں؟ تو سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں پڑھ لیا کرو، جو اس طرح کرے تو اس کے لیے دگنا اجر ہے یا فرمایا: تمام نمازیوں کے برابر ثواب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3642]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك 299»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں