السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
722. -- باب: الرجل يصلي وحده ثم يدركها مع الإمام
-- باب: اس شخص کا بیان جو اکیلے نماز پڑھے پھر اسے امام کے ساتھ پا لے
حدیث نمبر: 3636
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ ⦗٤٢٦⦘ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كَانَ أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ فَسَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ فَضَرَبَ فَخِذِي، فَقَالَ: سَأَلْتُ خَلِيلِي، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ فَخِذِي فَقَالَ:" صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَنْ أُصَلِّيَ مَعَهُمْ".
عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ امراء میں سے ایک شخص نماز کو مؤخر کر کے ادا کرتا تھا۔ میں نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا: میں نے اپنے خلیل یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر ادا کر، اس کے بعد اگر تو لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے پالے تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لے اور یہ نہ کہہ کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، اب میں تمہارے ساتھ نماز نہیں پڑھوں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3636]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 648»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3636 in Urdu