🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

728. -- باب: صلاة المريض
-- باب: بیمار کی نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3655
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَقَطَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ وَأَخْرَجَا هَذِهِ الْقِصَّةَ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو گر گئے اور آپ کے داہنے پہلو پر خراشیں آگئیں۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے گئے۔ نماز کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر ہی نماز ادا کی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام صرف اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم سر اٹھاؤ اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3655]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 371»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3656
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا فَجَلَسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا" ⦗٤٣٢⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ عیادت کے لیے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں کھڑے ہو کر نماز ادا کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، وہ بیٹھ گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام صرف اسی لیے ہوتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3656]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 656»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3657
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ قَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" قَالَتْ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَتْ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" قَالَتْ: فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً قَالَتْ: فَقَامَ يُهَادِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ، ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ مَكَانَكَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي النَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کمزور دل والے ہیں، وہ کیسے آپ کی جگہ پر کھڑے ہو سکتے ہیں اور نہ ہی وہ لوگوں کو (قرآن) سنا سکیں گے۔ اگر آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں اور نہ ہی وہ لوگوں کو (قرائت) سنا پائیں گے، آپ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کہہ دیں تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تو یوسف والیوں کی طرح ہو، چلو جاؤ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو۔“ چنانچہ انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب آپ رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ بہتری محسوس کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کا سہارا لیتے ہوئے نکل پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹانگیں زمین پر لگ رہی تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کو محسوس کیا اور وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کر کے کہا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب جا بیٹھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کر رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3657]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 633»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3658
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ بَيَانَ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَيْشِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَجِعًا فَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَوَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَجَاءَ، فَقَعَدَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ وَهُوَ قَائِمٌ" لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ وَفِي صَلَاتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي مَرَضِهِ دَلَالَةٌ عَلَى مَا قَصَدْنَاهُ بِهَذَا الْبَابِ وَفِي صَلَاتِهِ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ الْأَوَّلَ صَارَ مَنْسُوخًا وَأَنَّ الصَّحِيحَ يُصَلِّي قَائِمًا، وَإِنْ صَلَّى إِمَامُهُ قَاعِدًا بِالْعُذْرِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے تو آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت کچھ بہتر محسوس ہوئی تو آئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں جا بیٹھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامت کروا رہے تھے اور آپ بیٹھے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے۔
(ب) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایامِ مرض میں بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ اس حدیث میں اس چیز کی دلیل ہے جس کا ہم نے باب میں اشارہ کیا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کھڑے ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھ کر نماز پڑھانے میں اس بات کی دلیل ہے کہ پہلا حکم منسوخ ہے اور صحیح یہ ہے کہ مقتدی کھڑا ہو کر پڑھے اگرچہ امام عذر کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھ رہا ہو۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3658]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3659
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ثَبْتًا فِي الْحَدِيثِ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ ⦗٤٣٣⦘ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كَانَتْ بِي بَوَاسِيرُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ".
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض لاحق تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (نماز پڑھنے کے بارے میں) دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو پر لیٹ کر پڑھ لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3659]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1066»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3660
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3660]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں