🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

729. -- باب: ما روي في كيفية هذا القعود
-- باب: اس (بیمار کے) بیٹھنے کی کیفیت کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3661
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا" وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ ثنا ابْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، قَالُوا: ثنا يُوسُفُ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3661]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه النسائي في الكبري 1363»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3662
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِي، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا" وَقَدْ رُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي الصَّلَاةِ جَعَلَ قَدَمَهُ الْيُسْرَى بَيْنَ فَخِذِهِ وَسَاقِهِ، وَفَرَشَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى، إِلَّا أَنَّ ذَلِكَ فِي الْقُعُودِ لِلتَّشَهُّدِ، وَلَعَلَّ ذَلِكَ كَانَ مِنْ شَكْوَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا۔
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں کو (دائیں) ران اور پنڈلی کے درمیان رکھتے اور دائیں پاؤں کو بچھا لیتے، البتہ یہ تشہد کے لیے بیٹھنے کی صورت ہے، اور شاید وہ (چار زانو بیٹھنا) کسی بیماری کی وجہ سے تھا، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3662]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3663
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو هَكَذَا، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَهُوَ مُتَرَبِّعٌ جَالِسٌ" قَالَ الشَّيْخُ وَقَدْ رَوَى عُقْبَةُ أَخُو سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ أَنَّهُ رَأَى أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا، وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْهُ عُمَرُ، شَيْخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ.
(ا) سیدنا عامر بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے والد (رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح دعا کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا اور چار زانو ہو بیٹھے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عقبہ رحمہ اللہ جو سعید بن عبید طائی رحمہ اللہ کے بھائی ہیں، فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3663]
تخریج الحدیث: «قوي۔ والحديث شاهد صحيح للذي قبله»

الحكم على الحديث: قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3664
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ، قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا عَلَى فِرَاشِهِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: لَا أَعْلَمُ أَنَّى سَمِعْتُهُ إِلَّا مِنْهُ قَالَ: وَكَانَ عَبَّادٌ يَرْوِيهِ لَا يَقُولُ فِيهِ:" مُتَرَبِّعًا".
(ا) حمید طویل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔
(ب) امام ابو عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں تو یہی جانتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث ان کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی۔ عباد رحمہ اللہ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں لیکن اس میں «مُتَرَبِّعًا» کا لفظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3664]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 6132»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3665
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَتَرَبَّعُ فِي الصَّلَاةِ" وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَأَلْتُ قَتَادَةَ عَنِ التَّرَبُّعِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ:" كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ" قَالَ الشَّيْخُ: رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ إِنَّمَا قَعَدَ كَذَلِكَ فِي التَّشَهُّدِ وَاعْتَذَرَ فِي ذَلِكَ بِأَنَّ رِجْلَيْهِ لَا تَحْمِلَانِهِ، وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
(ا) حضرت قتادہ رحمہ اللہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ نماز میں چار زانو ہو کر بیٹھتے تھے۔
(ب) حضرت شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے نماز میں چار زانو بیٹھنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس طرح کرتے تھے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے حدیث بیان کی گئی کہ وہ صرف تشہد میں اس طرح بیٹھتے تھے اور اس میں عذر یہ پیش کیا کہ ان کی ٹانگیں ان کے وزن کی متحمل نہیں تھیں۔ اس کا ذکر ان شاء اللہ آگے آ رہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3665]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3666
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ قَالَ:" رَأَيْتُ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا وَمُتَّكِئًا" وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، فِي الْمَرِيضِ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ فَعَلَهُ وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَرِهَهُ.
(ا) حضرت حمید طویل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کو چار زانو سہارا لے کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
(ب) حضرت مجاہد رحمہ اللہ اور حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مریض کے بارے میں منقول ہے کہ وہ چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھ لے۔
(ج) ہمیں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بھی ایسا کیا ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ اس کو مکروہ جانتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3666]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبه 6126»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3667
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشَّرِيحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَكَمَ، عَنِ التَّرَبُّعِ فِي الصَّلَاةِ فَكَرِهَهُ وَقَالَ:" أَحْسَبُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَرِهَهُ".
حضرت شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حکم رحمہ اللہ سے نماز میں چار زانو بیٹھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے مکروہ بتایا اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی اسے مکروہ کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3667]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 6132»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3668
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ: لَأَنْ أَقْعُدَ عَلَى جَمْرَةٍ أَوْ جَمْرَتَيْنِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقْعُدَ مُتَرَبِّعًا فِي الصَّلَاةِ" وَهَذَا قَدْ حَمَلَهُ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ عَلَى الْإِطْلَاقِ، وَقَالَ: يُكْرَهُ مَا يَكْرَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ مِنْ تَرَبُّعِ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ، وَهُمْ، يَعْنِي الْعِرَاقِيِّينَ، يُخَالِفُونَ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَيَقُولُونَ: قِيَامُ صَلَاةِ الْجَالِسِ التَّرَبُّعُ. ثُمَّ فِي كِتَابِ الْبُوَيْطِيِّ قَالَ: يَقْعُدُ فِي مَوْضِعِ الْقِيَامِ مُتَرَبِّعًا، وَكَيْفَ أَمْكَنَهُ وَكَأَنَّهُ حَمَلَهُ عَلَى الْخُصُوصِ، أَوْ ذَهَبَ إِلَيْهِ بِبَعْضِ مَا مَضَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک یا دو انگاروں پر بیٹھ جاؤں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ نماز میں چار زانو بیٹھوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی کتاب میں اس کو مطلقاً ذکر کیا ہے۔
اور فرمایا: آدمی کا نماز میں چار زانو بیٹھنا، جسے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ناپسند سمجھتے تھے، مکروہ ہے اور عراقیین سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا قیام چار زانو بیٹھنا ہے۔
پھر امام بویطی رحمہ اللہ کی کتاب میں فرماتے ہیں: وہ قیام کی جگہ چار زانو بیٹھے یا جیسے بھی اس کے لیے ممکن ہو۔ گویا انہوں نے اس کو خصوصیت پر محمول کیا ہے یا اس طرف گئے ہیں جو گزر چکا ہے۔ (واللہ اعلم) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3668]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبة 6131»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں