السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
732. -- باب: ما روي في كيفية الصلاة على الجنب أو الاستلقاء وفيه نظر
-- باب: پہلو کے بل یا چت لیٹ کر نماز پڑھنے کی کیفیت کے متعلق جو مروی ہے، اور اس میں نظر (اختلاف) ہے
حدیث نمبر: 3678
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ بَطْحَاءَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَكَمِ الْحِيرِيُّ، ثنا حَسَنُ بْنُ حُسَيْنٍ الْعُرَنِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُصَلِّي الْمَرِيضُ قَائِمًا إِنِ اسْتَطَاعَ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ صَلَّى قَاعِدًا فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَسْجُدَ أَوْمَأَ وَجَعَلَ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ قَاعِدًا صَلَّى عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ صَلَّى مُسْتَلْقِيًا، رِجْلُهُ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ".
سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مریض اگر قدرت رکھتا ہو تو کھڑا ہو کر نماز پڑھے۔ اگر اتنی قدرت نہیں رکھتا تو بیٹھ کر اور اگر سجدے کی قدرت نہ ہو تو اشارہ کرلے۔ سجدوں کے اشاروں کو رکوع کے اشاروں سے تھوڑا نیچے رکھے۔ اگر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تو دائیں پہلو پر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھے اور اگر دائیں پہلو پر لیٹ کر نماز پڑھنے کی ہمت بھی نہیں پاتا تو چت لیٹ کر نماز پڑھ لے، اس صورت میں اس کی ٹانگیں قبلہ کی طرف ہونی چاہئیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3678]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا۔ اخرجه الدارقطني 2/42»
الحكم على الحديث: ضعيف جدا
حدیث نمبر: 3679
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، ⦗٤٣٧⦘ ثنا عَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ:" يُصَلِّي الْمَرِيضُ مُسْتَلْقِيًا عَلَى قَفَاهُ، تَلِي قَدَمَاهُ الْقِبْلَةَ" وَهَذَا مَوْقُوفٌ وَهُوَ مَحْمُولٌ عَلَى مَا لَوْ عَجَزَ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى جَنْبِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا نافع رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ مریض اپنی گدی پر چت لیٹ کر نماز پڑھے اور اس کے پاؤں قبلہ رخ ہوں۔ یہ روایت موقوف ہے۔
(ب) اور یہ حدیث اس صورت پر محمول ہے جب پہلو پر لیٹنے سے بھی عاجز آجائے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3679]
(ب) اور یہ حدیث اس صورت پر محمول ہے جب پہلو پر لیٹنے سے بھی عاجز آجائے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3679]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 4130»
الحكم على الحديث: ضعيف