السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
733. -- باب: من أطاق أن يصلي منفردا قائما ولم يطقه مع الإمام فصلى قائما منفردا
-- باب: اس شخص کا بیان جو اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی طاقت رکھتا ہو اور امام کے ساتھ طاقت نہ رکھتا ہو، تو اس نے اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھی
حدیث نمبر: 3680
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَلَاةِ الْقَاعِدِ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ.
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑا ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی نسبت آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹ کر نماز پڑھنے کی صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کی نسبت آدھا ثواب ملتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3680]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1065»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3681
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمْدَانَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ الصَّلَاةَ مَعَكَ قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا ضَخْمًا فَصَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ إِلَى مَنْزِلِهِ وَبَسَطَ لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحَ طَرَفَ الْحَصِيرِ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ وَلِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ فَقَالَ: مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
حضرت انس بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ انصار کے ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو کر (باجماعت) نماز ادا نہیں کر سکتا۔ وہ شخص بھاری جسم والا تھا۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، آپ کو اپنے گھر بلایا اور آپ کے لیے چٹائی بچھائی اور چٹائی کے کنارے کو جھاڑا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دو رکعتیں ادا کیں۔ آل جارود میں سے ایک آدمی نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے اس دن کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3681]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 639»
الحكم على الحديث: صحيح