🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

759. -- باب: الصلاة في الكعبة
-- باب: کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3780
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَمَعَهُ بِلَالٌ وَأُسَامَةُ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا مَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ، وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ ثُمَّ صَلَّى قَالَ: وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ: عَمُودَيْنِ عَنْ يَسَارِهِ وَكَذَلِكَ قَالَهُ الشَّافِعِيُّ فِي أَحَدِ الْمَوْضِعَيْنِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ لَنَا إِسْمَاعِيلُ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ وَقَالَ: عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ ⦗٤٦٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ قَالَهُ ابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ وَهُوَ الصَّحِيحُ.
(ا) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال، اسامہ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، میں نے بلال سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر کیا کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ستون کو اپنی بائیں طرف کیا اور ایک کو اپنی دائیں طرف اور بقیہ تین ستونوں کو اپنے پیچھے کی طرف کیا پھر نماز پڑھی۔ ان دنوں خانہ کعبہ کے اندر چھ ستون تھے۔
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ دو ستون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب تھے۔
(ج) اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی کہا ہے، دو جگہوں میں سے ایک میں۔
(د) امام بخاری رحمہ اللہ، اسماعیل کے واسطے سے امام مالک رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ دو ستون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف تھے۔
ابن بکیر نے بھی امام مالک سے اسی طرح روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3780]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي في الام 1/ 99۔ بخاري 505»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3781
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ وَبِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ وَمَكَثَ فِيهَا قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى وَكَذَلِكَ قَالَهُ الْقَعْنَبِيُّ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال بن رباح، سیدنا اسامہ بن زید اور سیدنا عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہم بھی داخل ہوئے۔ انہوں نے دروازہ بند کر دیا اور کچھ دیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر رہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں: جب وہ باہر نکلے تو میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر کیا کام کیا؟ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ستون کو بائیں طرف رکھا اور دو ستون اپنی دائیں جانب اور تین ستونوں کو پیچھے کی طرف رکھا اور نماز پڑھی۔ ان دنوں خانہ کعبہ چھ ستونوں پر قائم تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3781]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطا 1381»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3782
وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ:" تَرَكَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ فَذَكَرَهُ.
یہ حدیث عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کی ہے اور فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ستون اپنی دائیں جانب چھوڑے اور ایک بائیں جانب اور تین ستون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پچھلی طرف تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کی دیوار کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3782]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3783
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ فِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ عَلَى الْقَصْوَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ حَتَّى أَنَاخَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ لِعُثْمَانَ:" ايتِنَا بِمِفْتَاحٍ" فَجَاءَهُ بِالْمِفْتَاحِ، فَفَتَحَ لَهُ الْبَابَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ ثُمَّ أَغْلَقُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ، فَمَكَثَ نَهَارًا طَوِيلًا ثُمَّ خَرَجَ وَابْتَدَرَ النَّاسُ الدُّخُولَ فَسَبَقْتُهُمْ فَوَجَدْتُ بِلَالًا قَائِمًا وَرَاءَ الْبَابِ فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ، وَكَانَ الْبَيْتُ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ شَطْرَيْنِ صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ مِنَ الشَّطْرِ الْمُقَدَّمِ وَجَعَلَ بَابَ الْبَيْتِ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَاسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الَّذِي يَسْتَقْبِلُكَ حِينَ تَلِجُ وَالْبَيْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ قَالَ: وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى وَعِنْدَ الْمَكَانِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَرْمَرَةٌ حَمْرَاءُ" وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُرَيْجٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم قصوا نامی اونٹنی پر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال اور عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہما بھی تھے حتیٰ کہ سوار کو بیت اللہ کے پاس باندھ دیا گیا۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”چابی لاؤ۔“ انہوں نے چابی لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دروازہ کھول دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا اسامہ، بلال اور عثمان رضی اللہ عنہم آپ کے ساتھ داخل ہوئے۔ پھر انہوں نے دروازہ بند کر دیا اور دن کا بیشتر حصہ وہاں گزارا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو لوگ داخل ہونے کے لیے جلدی کرنے لگے، میں ان سب سے سبقت لے گیا وہاں میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے کے پیچھے کھڑے پایا تو میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگلے دو ستونوں کے درمیان اور بیت اللہ کے ان دنوں چھ ستون تھے، دونوں حصوں میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے نصف حصے میں جو ستون ہیں ان کے درمیان نماز ادا کی اور بیت اللہ کا دروازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کی طرف تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخِ انور اس طرف کیا جس طرف بیت اللہ میں داخل ہونے والا جب داخل ہوتا ہے تو اس کے بالکل سامنے جو جگہ آتی ہے وہاں اپنے اور دیوار کے درمیان نماز ادا کی۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس جگہ نماز پڑھی تھی وہاں پر سرخ سنگِ مرمر لگا ہوا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3783]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 4400»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3784
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِوسٍ السِّجِسْتَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّمَرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ،" كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ مَشَى قِبَلَ وَجْهِهِ حِينَ يَدْخُلُ وَيَجْعَلُ الْبَابَ قِبَلَ ظَهْرِهِ فَيَمْشِي حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ الَّذِي قِبَلَ وَجْهِهِ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثَةِ أَذْرُعٍ يُصَلِّي يَتَوَخَّى الْمَكَانَ الَّذِي ⦗٤٦٤⦘ أَخْبَرَهُ بِلَالٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ وَلَيْسَ عَلَى أَحَدٍ بَأْسٌ أَنْ يُصَلِّيَ مِنْ أَيِّ نَوَاحِي الْبَيْتِ شَاءَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي ضَمْرَةَ، عَنْ مُوسَى.
حضرت موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت نافع رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب بیت اللہ میں داخل ہوئے اور دروازہ اپنی پیٹھ کے پیچھے چھوڑ دیا، آپ چلتے گئے حتیٰ کہ ان میں اور سامنے والی دیوار میں تقریباً تین ہاتھ جگہ رہ گئی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس جگہ کی خواہش تھی جس کے بارے میں انھیں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی ہے۔ بیت اللہ کے اندر کوئی حرج نہیں ہے، آدمی جس کونے میں چاہے نماز ادا کرسکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3784]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1599»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3785
أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ قَالُوا: ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا فَتَحُوا كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ وَلَجَ، فَلَقِيتُ بِلَالًا فَسَأَلْتُهُ: هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور انہوں نے دروازہ بند کر دیا، جب انہوں نے دروازہ کھولا تو سب سے پہلے داخل ہونے والا میں تھا، میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے جا ملا، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے بتایا: جی ہاں پڑھی ہے، دو یمنی ستونوں کے درمیان پڑھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3785]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1598»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3786
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَيْفٌ قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ فِي مَنْزِلِهِ فَقِيلَ لَهُ: هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ: فَأَقْبَلْتُ فَأَجِدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ وَأَجِدُ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ قَائِمًا فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقُلْتُ: أَيْنَ؟ قَالَ: بَيْنَ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَيُقَالُ: قَدْ رَوَاهُ أَيْضًا، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَفِيهِ أَنَّهُ صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ رَكْعَتَيْنِ وَقَدِ اتَّفَقَتْ رِوَايَةُ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَفُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَابْنِ عَوْنٍ وَغَيْرِهِمْ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ نَسِيَ أَنْ يَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ صَلَّى فِيهَا رَكْعَتَيْنِ، فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَخْبَرَ عَنْ أَقَلِّ مَا يَكُونُ صَلَاةً، وَسَكَتَ عَمَّا زَادَ عَلَيْهِمَا؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ بِلَالًا.
حضرت سیف رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے سنا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر کوئی شخص آیا اور ان سے کہا گیا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہو گئے ہیں۔ فرماتے ہیں: میں جب آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جا چکے تھے البتہ مجھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ دروازے کے پاس کھڑے مل گئے تو میں نے کہا کہ اے بلال! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں پڑھی ہے۔ میں نے پوچھا: کہاں پڑھی ہے؟ انھوں نے بتایا کہ دو ستونوں کے درمیان دو رکعتیں پڑھی ہیں، پھر نکل کر دو رکعتیں بیت اللہ کے سامنے پڑھی ہیں۔
(ب) حضرت ابونعیم رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ آپ نے کعبہ میں دو رکعتیں ادا کی ہیں۔ حضرت ایوب سختیانی، عبیداللہ بن عمر، فلیح بن سلیمان، ابن عون رحمہم اللہ کی روایتیں جو انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہیں تمام اس پر متفق ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ پوچھنا بھول گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں نماز ادا کیں؟ اس حدیث میں تعداد کی تعیین ہو رہی ہے کہ آپ نے دو رکعتیں ادا کی ہیں۔
(ج) یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کم سے کم مقدار بیان کی ہو اور دو رکعتوں سے زیادہ جو آپ نے ادا کی ہیں ان پر سکوت اختیار کیا ہو؛ کیونکہ انھوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے نہیں پوچھا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3786]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1171»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3787
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ؟ قَالَ:" صَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
حضرت عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کی تھیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3787]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 3/ 430/ 15635»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3788
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ وَسَيَأْتِي مَنْ يَنْهَاكَ عَنْ ذَلِكَ فَلَا تُطِعْهُ" يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ.
حضرت سماک حنفی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبۃ اللہ میں نماز ادا کی، عنقریب ایک آدمی آئے گا اور تمہیں اس سے روکے گا، تم نے اس کی بات نہیں ماننی، ان کی مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3788]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابن الجعد 1506»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3789
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ (ح) قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ بَحْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: سَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ؟ فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ فِي قِبَلِ الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ، قُلْتُ: مَا نَوَاحِيهَا فِي زَوَايَاهَا قَالَ: فِي كُلِّ قِبْلَةٍ مِنَ الْبَيْتِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ كَمَا تَقَدَّمَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ قَالَ: صَلَّى، شَاهِدٌ، وَمَنْ قَالَ: لَمْ يُصَلِّ، لَيْسَ بِشَاهِدٍ، فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ بِلَالٍ وَكَانَتْ هَذِهِ الْحُجَّةُ الثَّابِتَةُ عِنْدَنَا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِّينَا أَيْضًا، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَرُوِيَ ذَلِكَ، عَنْ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ الْحَجَبِيِّ وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ الْحَجَبِيِّ.
سیدنا ابن جریج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا تم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں صرف خانہ کعبہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ اس کے اندر داخل ہونے کا؟ تو انہوں نے بتایا کہ وہ داخل ہونے سے تو نہیں روکتے تھے لیکن میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے چاروں کونوں میں دعا کی اور اس کے اندر نماز نہیں پڑھی اور نکل گئے، پھر باہر جا کر بیت اللہ کے سامنے دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: ”یہ ہے قبلہ۔“ میں نے کہا: اس کی جوانب کون سی ہیں، کیا اس کے کنارے مراد ہیں؟ انہوں نے بتایا: بیت اللہ کی ہر سمت میں (جو سامنے ہو)۔
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جو کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی وہ خود اس کا گواہ ہے اور جو کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھی اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے نہیں دیکھا اور ہم حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا قول لیں گے اور وہی ہمارے نزدیک حجت ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح کی روایت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بھی ہمیں پہنچی ہے۔
اور یہ حضرت شیبہ بن عثمان بن طلحہ اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3789]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 398»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں