السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
768. -- باب: من سها فصلى خمسا
-- باب: اس شخص کا بیان جو بھول گیا اور اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لیں
حدیث نمبر: 3838
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ:" مَا ذَاكَ؟" فَقَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" وَقَالَ مَرَّةً: بَعْدَ مَا فَرَغَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ وَقَالَ: سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ؛ وَهَذَا لِأَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ إِلَّا بَعْدَ التَّسْلِيمِ ⦗٤٨٢⦘.
(ا) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیسے یا وہ کون سا اضافہ؟“ عرض کیا گیا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے یا فرمایا: فارغ ہونے کے بعد۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث اپنی صحیح میں حضرت ابو ولید رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے اور یہ اس لیے کہ انہوں نے سلام کے بعد ہی ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3838]
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث اپنی صحیح میں حضرت ابو ولید رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے اور یہ اس لیے کہ انہوں نے سلام کے بعد ہی ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3838]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1226»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3839
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟" قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ.
ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو کسی نے کہا: کیا نماز میں کوئی اضافہ ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیسے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: آپ نے پانچ رکعتیں ادا کی ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3839]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3840
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يُحَدِّثُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ النَّخَعِيِّ الْأَعْوَرِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ الْقَوْمُ: يَا أَبَا شِبْلٍ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا قَالَ: كَلَّا، مَا فَعَلْتُ، قَالُوا: بَلَى قَالَ: وَكُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلَامٌ، فَقُلْتُ: بَلَى، قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَقَالَ: وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ تَقُولُ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ:" لَا" قَالُوا: فَقَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا فَانْفَتَلَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" لَفْظُ حَدِيثِ جَرِيرٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ عُثْمَانَ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ قَوْلَهُ:" فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" فِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ وَقَدْ رَوَاهُ شَيْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ كَمَا كَتَبْتُهُ.
(ا) حضرت ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ نے ہمیں ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھائیں، جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا: اے ابوشبل! آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ انہوں نے کہا: نہیں میں نے تو ایسے نہیں کیا، لوگوں نے کہا: کیوں نہیں بلکہ آپ نے اسی طرح کیا ہے۔ حضرت ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں لوگوں کے ایک طرف تھا اور میں اس وقت بچہ تھا، میں نے کہا: جناب! آپ نے واقعی پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ وہ بولے: اے کانے! تو بھی ایسے ہی کہہ رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے دوبارہ قبلہ رخ ہو کر دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ پھر فرمایا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعتیں نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پھرے اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: ”میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔ جب تم میں سے کوئی نماز میں بھول جائے تو دو سجدے کرلیا کرے۔“
(ب) یہ جریر کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس کو روایت کیا ہے مگر وہاں الفاظ قدرے مختلف ہیں، وہاں یہ ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو دو سجدے کرلیا کرے۔“ اس کو حضرت ابن نمیر رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3840]
(ب) یہ جریر کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس کو روایت کیا ہے مگر وہاں الفاظ قدرے مختلف ہیں، وہاں یہ ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو دو سجدے کرلیا کرے۔“ اس کو حضرت ابن نمیر رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3840]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 401»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3841
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتِي الْعِشَاءِ فَلَمَّا انْفَتَلَ، قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا؟ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ" ثُمَّ أَقْبَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ النَّهْشَلِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن کی کوئی نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پھرے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح انسان ہوں، جس طرح تم یاد رکھتے ہو میں بھی یاد رکھتا ہوں اور جس طرح تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔“
پھر واپس مڑے اور سہو کے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3841]
پھر واپس مڑے اور سہو کے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3841]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3842
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ وَالْكَلَامِ" ⦗٤٨٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَذَلِكَ أَنَّهُ إِنَّمَا ذَكَرَ السَّهْوَ بَعْدَ الْكَلَامِ فَسَأَلَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَنَ أَنَّهُ قَدْ سَهَا سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَالَ الشَّيْخُ: وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ، ثُمَّ فِي رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ ثُمَّ فِي رِوَايَةِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام اور کلام کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس وجہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو کا سجدہ باتیں کرنے کے بعد یاد آیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو گیا کہ واقعی بھولے ہیں تو آپ نے سہو کے دو سجدے کیے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بات حضرت حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ کی حدیث میں واضح ہے جو وہ حضرت ابراہیم بن یزید نخعی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم بن سوید نخعی رحمہ اللہ کی روایت حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے پھر حضرت اسود رحمہ اللہ کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3842]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس وجہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو کا سجدہ باتیں کرنے کے بعد یاد آیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو گیا کہ واقعی بھولے ہیں تو آپ نے سہو کے دو سجدے کیے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بات حضرت حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ کی حدیث میں واضح ہے جو وہ حضرت ابراہیم بن یزید نخعی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم بن سوید نخعی رحمہ اللہ کی روایت حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے پھر حضرت اسود رحمہ اللہ کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3842]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تم قبله وبرقم 3838»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3843
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ أَوْ نَقَصَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَالْوَهْمُ مِنِّي، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مِنْجَابِ بْنِ الْحَارِثِ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ وَفِي حَدِيثِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّ سُجُودَهُ كَانَ بَعْدَ قَوْلِهِ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ" وَقَدْ مَضَى فِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ أَوَّلًا ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ وَقَالَ مَا قَالَ، وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا الْبَابِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ مِثْلُ ذَلِكَ وَهُوَ أَوْلَى أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا مِنْ رِوَايَةِ مَنْ تَرَكَ التَّرْتِيبَ فِي حِكَايَتِهِ.
(ا) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو اس میں کمی یا زیادتی کی۔ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ وہم (کمی یا بیشی کے بارے میں) میری طرف سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی چیز زیادہ ہوگئی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی انسان ہوں تمہاری طرح بھول جاتا ہوں۔ جب تم میں سے کوئی نماز میں بھول جائے تو اس کو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلینے چاہئیں،“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑے اور دو سجدے کیے۔
(ب) اس حدیث میں اور اسود رحمہ اللہ کی عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے بعد تھے: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ» ”میں تو بس ایک انسان ہی ہوں“۔
(ج) ابراہیم رحمہ اللہ سے منقول منصور رحمہ اللہ کی روایت گزر چکی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سجدہ کیا، پھر سلام پھیرا، پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر جو فرمانا تھا فرمایا۔
(د) اس باب میں ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ سے بواسطہ علقمہ رحمہ اللہ اسی طرح کی روایت گزر چکی ہے اور وہ صحیح ہونے کے زیادہ قابل ہے، اس روایت سے جس میں راوی نے بیان کرنے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3843]
(ب) اس حدیث میں اور اسود رحمہ اللہ کی عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے بعد تھے: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ» ”میں تو بس ایک انسان ہی ہوں“۔
(ج) ابراہیم رحمہ اللہ سے منقول منصور رحمہ اللہ کی روایت گزر چکی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سجدہ کیا، پھر سلام پھیرا، پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر جو فرمانا تھا فرمایا۔
(د) اس باب میں ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ سے بواسطہ علقمہ رحمہ اللہ اسی طرح کی روایت گزر چکی ہے اور وہ صحیح ہونے کے زیادہ قابل ہے، اس روایت سے جس میں راوی نے بیان کرنے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3843]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح