🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
768. -- باب: من سها فصلى خمسا
-- باب: اس شخص کا بیان جو بھول گیا اور اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3843
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ أَوْ نَقَصَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَالْوَهْمُ مِنِّي، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مِنْجَابِ بْنِ الْحَارِثِ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ وَفِي حَدِيثِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّ سُجُودَهُ كَانَ بَعْدَ قَوْلِهِ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ" وَقَدْ مَضَى فِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ أَوَّلًا ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ وَقَالَ مَا قَالَ، وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا الْبَابِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ مِثْلُ ذَلِكَ وَهُوَ أَوْلَى أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا مِنْ رِوَايَةِ مَنْ تَرَكَ التَّرْتِيبَ فِي حِكَايَتِهِ.
(ا) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو اس میں کمی یا زیادتی کی۔ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ وہم (کمی یا بیشی کے بارے میں) میری طرف سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی چیز زیادہ ہوگئی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی انسان ہوں تمہاری طرح بھول جاتا ہوں۔ جب تم میں سے کوئی نماز میں بھول جائے تو اس کو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلینے چاہئیں،“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑے اور دو سجدے کیے۔
(ب) اس حدیث میں اور اسود رحمہ اللہ کی عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے بعد تھے: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ» ”میں تو بس ایک انسان ہی ہوں“۔
(ج) ابراہیم رحمہ اللہ سے منقول منصور رحمہ اللہ کی روایت گزر چکی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سجدہ کیا، پھر سلام پھیرا، پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر جو فرمانا تھا فرمایا۔
(د) اس باب میں ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ سے بواسطہ علقمہ رحمہ اللہ اسی طرح کی روایت گزر چکی ہے اور وہ صحیح ہونے کے زیادہ قابل ہے، اس روایت سے جس میں راوی نے بیان کرنے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3843]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3843 in Urdu