🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

774. -- باب: من كثر عليه السهو في صلاته فسجدتا السهو تجزيان عن ذلك كله
-- باب: اس شخص کا بیان جس پر اس کی نماز میں سہو (بھول) کثرت سے طاری ہو تو سہو کے دو سجدے ان سب کی طرف سے کفایت کر جائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3859
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَجَّاجٌ قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِحْدَى صَلَاتِي الْعِشَاءِ أَوِ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ: الظُّهْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَمْ يَذْكُرْ حَجَّاجٌ وَهُوَ غَضْبَانُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالُوا: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ وَفِي النَّاسِ رَجُلٌ كَانَ يَدْعُوهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ:" لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ" فَقَالَ: بَلَى نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ:" صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟" فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ" وَاللَّفْظُ لِسُلَيْمَانَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَكْثَرُ ظَنِّي الْعَصْرُ وَقَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کی دو نمازوں میں سے کوئی نماز (ظہر یا عصر) پڑھائی۔ میرا غالب گمان ہے کہ انہوں نے ظہر کا نام لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد کے سامنے غصے کی حالت میں ایک لکڑی کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ حجاج نے غصہ کی حالت کا ذکر نہیں کیا۔ آپ نے اپنا ہاتھ اس لکڑی پر رکھا ہوا تھا۔ لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ وہ دونوں بھی آپ کے سامنے بات کرنے سے گھبرا رہے تھے۔ لوگ جلدی جلدی نکلے تو کہنے لگے: ”کیا نماز کم ہو گئی؟“ لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہا کرتے تھے، ذوالیدین نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہو گئی ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں بھولا اور نہ ہی نماز کم ہوئی ہے۔“ تو اس نے عرض کیا: ”کیوں نہیں؟ اے اللہ کے رسول! بلکہ آپ بھول گئے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہا ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر (سجدے کے لیے) سر رکھا اور تکبیر کہی، پھر معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔
(ب) بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی اور فرمایا: پھر آپ نے سلام پھیرا پھر تکبیر کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3859]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 714۔ 715۔ 482»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3860
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ الرَّقِّيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَجْدَتَا السَّهْوِ تَجْزِيَانِ مِنْ كُلِّ زِيَادَةٍ وَنُقْصَانٍ" لَفْظُ حَدِيثِ الْمَالِينِيِّ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ:" سَجْدَتَا السَّهْوِ لِكُلِّ زِيَادَةٍ وَنُقْصَانِ" وَهَذَا الْحَدِيثُ يُعَدُّ مِنْ إِفْرَادِ حَكِيمِ بْنِ نَافِعٍ الرَّقِّيِّ، وَكَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يُوَثِّقُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سہو کے دو سجدے ہر کمی اور زیادتی سے کفایت کر جاتے ہیں۔“
(ب) ابن عبدان کی حدیث میں ہے: ”ہر کمی اور زیادتی کے لیے سہو کے دو سجدے ہیں۔“
یہ حدیث حکیم بن نافع رقی کی منفرد روایات میں شمار ہوتی ہے، اور یحییٰ بن معین انہیں ثقہ قرار دیتے تھے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3860]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابويعلي: 4592۔ 4684»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں