السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
795. -- باب: الكلام في الصلاة على وجه السهو
-- باب: نماز میں بھول کر کلام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3914
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ فَسَهَا فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ سَهَوْتَ فَسَلَّمْتَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَتَمَّ تِلْكَ الرَّكْعَةَ فَسَأَلْتُ النَّاسَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ سَهَوْتَ، فَقِيلَ لِي: تَعْرِفُهُ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِيَ رَجُلٌ، فَقُلْتُ: هُوَ هَذَا، قَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ".
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، آپ بھول گئے اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر اٹھ کر چلے گئے تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں، آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا ہے، تو آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا، پھر وہ رکعت مکمل کی۔ میں نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا تھا کہ آپ بھول گئے ہیں تو مجھ سے کہا گیا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، مگر اس کو دیکھ لوں تو پہچان سکتا ہوں۔ ایک روز میرے پاس سے وہ شخص گزرا تو میں نے کہا: یہ رہا وہ آدمی! انہوں نے کہا: یہ تو سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3914]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3915
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا عَسَلُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ، صَلَّى الْمَغْرِبَ بِالنَّاسِ فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ لِيَسْتَلِمَهُ فَنَظَرَ فَرَأَى الْقَوْمَ جُلُوسًا قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى صَلَّى لَنَا الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ" قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فِي فَوْرَتِي إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: إِيهًا، لِلَّهِ أَبُوكَ كَيْفَ صَنَعَ؟ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر وہ حجر اسود کا استلام کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے پیچھے دیکھا تو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ واپس آئے اور وہ باقی رکعت ہمیں پڑھائی، پھر سلام پھیرا اور دو سجدے کیے۔ عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں فوراً ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تو میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اچھا بتاؤ، تمہارا بھلا ہو! انہوں نے کیسے کیا؟ میں نے وہ بات دہرائی تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے انحراف نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3915]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة 4504»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3916
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْهَاشِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ حَسَّانَ، عَنْ عِسْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَزَادَ: فَسَبَّحْنَا فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" مَا أَتْمَمْنَا الصَّلَاةَ؟" فَقُلْنَا بِرُءُوسِنَا سُبْحَانَ اللهِ، أَيْ: لَا وَلَمْ يَذْكُرِ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَكْثَرَ مِنْ أَنْ قَالَ: مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
دوسری سند سے اسی جیسی حدیث عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے منقول ہے۔ اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا کہ ہم سبحان اللہ کہنے لگے تو انہوں نے ہماری طرف توجہ کی اور فرمایا: ”کیا ہم نے نماز مکمل نہیں کی؟“ ہم نے اپنے سروں کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے سبحان اللہ کہا یعنی مکمل نہیں کی اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صرف اتنا ہی ذکر کیا: «مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صلی اللہ علیہ وسلم » ”انہوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے انحراف نہیں کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3916]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3917
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ الْإِيَادِيُّ، ثنا عَامِرٌ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ:" صَلَّى ابْنُ الزُّبَيْرِ الْمَغْرِبَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَهَضَ فَسَبَّحَ النَّاسُ، فَقَالَ: مَا لَهُمْ، ثُمَّ جَاءَ فَرَكَعَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ" قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِفِعْلِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ:" مَا أَمَاطَ، عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ⦗٥٠٧⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَابْنُ الزُّبَيْرِ هَذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ.
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے مغرب کی نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر جلدی سے اٹھ کر جانے لگے تو لوگوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا، وہ بولے: انھیں کیا ہو گیا ہے؟ پھر آئے اور ایک رکعت پڑھی، پھر دو سجدے۔ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انھیں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے فعل کے بارے میں بتایا تو انھوں نے فرمایا: انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے تجاوز نہیں کیا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے مراد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3917]
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے مراد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3917]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3918
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَّاهُ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا شَتَمَنِي وَلَا ضَرَبَنِي قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ" أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ.
سیدنا معاویہ بن حکم اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک نمازی نے چھینک ماری، میں نے «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“ کہہ دیا۔ لوگ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا: ”ہائے افسوس! میری ماں مجھے گم پائے! تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کیے، جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں (تو میں ناراض ہوا) لیکن خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے والدین قربان ہوں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر مشفق و مہربان معلم نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مجھے مارا، نہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اتنا فرمایا: ”یہ نماز ہے، اس میں لوگوں سے باتیں کرنا جائز نہیں، اس میں تو تسبیح، تکبیر اور تلاوتِ قرآن ہوتی ہے“ یا اس سے ملتی جلتی بات فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3918]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 5/447/24163»
الحكم على الحديث: صحيح