🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

910. -- باب: من أجاز أن يصلي أربعا لا يسلم إلا في آخرهن
-- باب: اس قول کا بیان جس نے چار رکعتیں اس طرح پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے کہ صرف ان کے آخر میں سلام پھیرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4579
أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مِنْجَابٍ، عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ:" إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ، فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهِنَّ خَيْرٌ قَبْلَ أَنْ تُرْتَجَ أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَقْرَأُ فِيهِنَّ، أَوْ يُقْرَأُ فِيهِنَّ كُلِّهِنَّ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: فِيهِنَّ سَلَامٌ فَاصِلٌ؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ.
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج کے ڈھلنے کے بعد چار رکعات پڑھتے تھے۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! یہ نماز کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ جب سورج ڈھلتا ہے اور ظہر کی نماز تک آسمان کے دروازے بند نہیں کیے جاتے۔ میں پسند کرتا ہوں کہ آسمان کے دروازے بند ہونے سے پہلے میرے نیک اعمال اوپر چڑھائے جائیں۔“ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں قراءت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ان تمام میں قراءت کرتا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: کیا ان کے درمیان سلام کے ذریعہ فاصلہ کیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، صرف آخری رکعت میں سلام ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4579]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4580
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ عُبَيْدَةُ ح قَالَ: وَثنا أَبُو الرَّبِيعِ أَيْضًا أنبأ قَزَعَةَ، عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ:" أَدْمَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يُصَلِّيهِنَّ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ فِي مَنْزِلِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ" قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي تُصَلِّيهَا؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ ⦗٦٨٨⦘ قَالَ: وَهَذَا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَكَرِيَّا وَهُوَ أَتَمُّ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُبَيْدَةَ وَقِيلَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَقِيلَ: عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ قَزَعَةَ وَهُوَ خَطَأٌ، وَعُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِخَبَرِهِ أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: بَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ:" لَوْ حَدَّثْتُ عَنْ عُبَيْدَةَ بِشَيْءٍ لَحَدَّثْتُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ"، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: عُبَيْدَةُ ضَعِيفٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ غَيْرِ قَوِيٍّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ.
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد میرے گھر چار رکعات ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسی نماز ہے جو آپ پڑھتے ہیں؟ پھر اسی طرح حدیث ذکر کی۔
عبیدہ بن معتب ضعیف ہیں، ان کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبیدہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جو قوی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4580]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4581
أَنْبَأَهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُؤَمَّلٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، فَقِيلَ لَهُ" إِنَّكَ تُدِيمُ هَذِهِ الصَّلَاةَ، فَقَالَ:" إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَأُحِبُّ أَنْ أُقَدِّمَ قَبْلَ أَنْ تُرْتَجَ" لَفْظُ حَدِيثِ سُفْيَانَ. وَقَدْ وَرَدَ الْحَدِيثُ الثَّابِتُ بِإِجَازَةِ خَمْسٍ لَا يُتَشَهَّدُ وَلَا يُسَلَّمُ فِيهِنَّ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ فِي الْوِتْرِ، وَبِإِجَازَةِ تِسْعٍ لَا يُقْعَدُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ وَلَا يُسَلَّمُ إِلَّا فِي التَّاسِعَةِ، وَذَلِكَ أَيْضًا فِي الْوِتْرِ مَذْكُورٌ.
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے قبل چار رکعات پڑھا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”کیا آپ ان پر ہمیشگی کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج ڈھل جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال آسمان کے دروازے بند ہونے سے پہلے اوپر چلے جائیں۔“
(ب) ثابت (صحیح) حدیث میں وتر میں پانچ رکعات کی اجازت آئی ہے، جن کے درمیان نہ تشہد ہوگا اور نہ ہی سلام، صرف آخری رکعت میں، اور نو رکعات کی اجازت بھی آئی ہے کہ صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھا جائے اور سلام صرف نویں رکعت میں ہوگا۔ یہ بھی وتر کے بارے میں مذکور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4581]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں