السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
910. -- باب: من أجاز أن يصلي أربعا لا يسلم إلا في آخرهن
-- باب: اس قول کا بیان جس نے چار رکعتیں اس طرح پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے کہ صرف ان کے آخر میں سلام پھیرے
حدیث نمبر: 4579
أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مِنْجَابٍ، عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ:" إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ، فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهِنَّ خَيْرٌ قَبْلَ أَنْ تُرْتَجَ أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَقْرَأُ فِيهِنَّ، أَوْ يُقْرَأُ فِيهِنَّ كُلِّهِنَّ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: فِيهِنَّ سَلَامٌ فَاصِلٌ؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ.
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج کے ڈھلنے کے بعد چار رکعات پڑھتے تھے۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! یہ نماز کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ جب سورج ڈھلتا ہے اور ظہر کی نماز تک آسمان کے دروازے بند نہیں کیے جاتے۔ میں پسند کرتا ہوں کہ آسمان کے دروازے بند ہونے سے پہلے میرے نیک اعمال اوپر چڑھائے جائیں۔“ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں قراءت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ان تمام میں قراءت کرتا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: کیا ان کے درمیان سلام کے ذریعہ فاصلہ کیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، صرف آخری رکعت میں سلام ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4579]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4579 in Urdu