🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

937. -- باب: ترتيل القراءة
-- باب: ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4713
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكْ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ:" وَمَا لَكُمْ وَصَلَاتُهُ، كَانَ يُصَلِّي، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى، ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ، وَنَعَتَتْ لَهُ قِرَاءَتَهُ، فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا".
یعلی بن مملک نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت اور رات کی نماز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: پھر تمہیں آپ کی نماز اور قرأت سے کیا نسبت؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے، پھر اتنی دیر سو جاتے جتنی دیر نماز پڑھتے، پھر اتنی دیر نماز پڑھتے جتنی دیر سوتے، پھر سو جاتے اتنا وقت جتنی دیر نماز پڑھتے، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا طریقہ بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت حرف، حرف ہوتی تھی (یعنی ایک ایک حرف سمجھ آتا تھا)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4713]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداؤد 1466»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4714
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي سَرِيعُ الْقِرَاءَةِ، إِنِّي أَهُذُّ الْقُرْآنَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" لَأَنْ أَقْرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَأُرَتِّلُهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ هَذْرَمَةً".
ابو جمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں تیز قرأت کرتا ہوں، میں قرآن کو جلدی جلدی پڑھتا ہوں! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر میں سورہ البقرہ کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر پڑھوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں مکمل قرآن تیزی سے پڑھ جاؤں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4714]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبدالرزاق 4178»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4715
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنبأ ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي رَجُلٌ سَرِيعُ الْقِرَاءَةِ، وَرُبَّمَا قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" لَأَنْ أَقْرَأَ سُورَةً وَاحِدَةً أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ مِثْلَ الَّذِي تَفْعَلُ، فَإِنْ كُنْتَ فَاعِلًا لَا بُدَّ، فَاقْرَأْهُ قِرَاءَةً تُسْمِعُ أُذُنَيْكَ وَيَعِيهِ قَلْبُكَ".
ابو جمرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں ایسا آدمی ہوں جو بہت زیادہ تیز قرأت کرتا ہوں اور بعض اوقات رات کے اندر ایک یا دو مرتبہ قرآن کی تلاوت کر لیتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں ایک سورت پڑھ لوں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں ویسے ہی کروں جو تم کرتے ہو۔ اگر آپ ایسا ہی کرتے ہیں تو پھر ایسی قرأت کرو جو تمہارے کان سن سکیں اور تیرا دل اس کو یاد رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4715]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4716
وَحَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ:" اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَحَرِّكُوا بِهِ الْقُلُوبَ، لَا يَكُونُ هَمُّ أَحَدِكُمْ آخِرَ السُّورَةِ".
ابو جمرہ، ابراہیم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم قرآن پڑھو اور اس قرآن کے ذریعے دلوں کو متحرک رکھو اور تم میں سے کسی کا بھی مقصد صرف سورت کے آخر تک پہنچنا نہیں ہونا چاہیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4716]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4717
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، إِمْلَاءً، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى أَبُو بَكْرٍ الطَّلْحِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ كُلَيْبٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ خَرْشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ يُرَدِّدُ آيَةً حَتَّى أَصْبَحَ، بِهَا يَرْكَعُ وَبِهَا يَسْجُدُ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ} [المائدة: ١١٨] قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا زِلْتَ تُرَدِّدُ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى أَصْبَحْتَ قَالَ:" إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي، وَهِيَ نَائِلَةٌ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا".
خرشہ بن حر رحمہ اللہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ رات نماز پڑھ رہے تھے اور ایک ہی آیت کو بار بار دہرا رہے تھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ آپ رکوع و سجود کرتے رہے اور آیت یہ ہے: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ﴾ [سورة المائدة: 118] ”اے اللہ! اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ایک آیت کو بار بار دہراتے رہے اور صبح کردی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اپنی امت کی شفاعت کا سوال کیا، یہ سفارش اس کے لیے ہوگی جس نے شرک نہیں کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4717]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 14515»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4718
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَامِرِيُّ، حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ يُرَدِّدُهَا، وَالْآيَةُ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: ١١٨] ". تَابَعَهُ فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ عَنْ جَسْرَةَ، وَزَادَ: بِهَا يَرْكَعُ وَبِهَا يَسْجُدُ.
جسرہ بنت دجاجہ رحمہا اللہ کہتی ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ صبح ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی آیت کو دہراتے رہے: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة المائدة: 118] ”اگر تو ان کو عذاب دے گا تو وہ تیرے بندے ہیں، اگر تو ان کو معاف کر دے گا تو تو غالب حکمت والا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4718]
تخریج الحدیث: «حسن۔ نسائي 1010»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں