السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
937. -- باب: ترتيل القراءة
-- باب: ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4714
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي سَرِيعُ الْقِرَاءَةِ، إِنِّي أَهُذُّ الْقُرْآنَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" لَأَنْ أَقْرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَأُرَتِّلُهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ هَذْرَمَةً".
ابو جمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں تیز قرأت کرتا ہوں، میں قرآن کو جلدی جلدی پڑھتا ہوں! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر میں سورہ البقرہ کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر پڑھوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں مکمل قرآن تیزی سے پڑھ جاؤں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4714]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبدالرزاق 4178»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4714 in Urdu