السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
978. جماع أبواب فضل الجماعة والعذر بتركها -- باب: فرض الجماعة في غير الجمعة على الكفاية
باجماعت نماز کی فضیلت اور اسے ترک کرنے کے عذر کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: جمعہ کے علاوہ نماز باجماعت کے فرض کفایہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q4928
بَابُ فَرْضِ الْجَمَاعَةِ فِي غَيْرِ الْجُمُعَةِ عَلَى الْكِفَايَةِ.
یہ باب جمعہ کے علاوہ دیگر نمازوں میں باجماعت نماز ادا کرنے کے فرضِ کفایہ ہونے کے بیان میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q4928]
حدیث نمبر: 4928
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، وَاللَّفْظُ لَهُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِنَا، فَأَخْبَرَنَاهُ فَقَالَ:" ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا عِنْدَهُمْ، وَعَلِّمُوهُمْ، وَمُرُوهُمْ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم سب ہم عمر نوجوان تھے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیس راتیں ٹھہرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت رحم فرمانے والے اور نرم مزاج تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ ہمیں اپنے گھر والوں کی یاد ستا رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ان کے متعلق دریافت فرمایا جنہیں ہم (گھروں میں) چھوڑ آئے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھر والوں کی طرف واپس چلے جاؤ، ان کے پاس رہو، انہیں (دین کی) تعلیم دو، انہیں (بھلائی کا) حکم دو اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4928]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 602»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4929
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زَائِدَةُ، ثنا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ: أَيْنَ مَسْكَنُكَ؟ فَقُلْتُ: فِي خَرِبَةٍ دُونَ حِمْصَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ". قَالَ السَّائِبُ: يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ الْجَمَاعَةَ فِي الصَّلَاةِ.
معدان بن ابی طلحہ یعمری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہاری رہائش کہاں ہے؟ میں نے کہا: حمص سے ورے ایک چھوٹی بستی میں۔ تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس بستی یا دیہات میں تین آدمی ہوں اور وہاں نماز قائم نہ کی جاتی ہو، اس جگہ شیطان کا غلبہ ہوتا ہے۔ تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑیا دور رہنے والی (بکری) کو کھا جاتا ہے۔“
سائب کہتے ہیں: جماعت سے مراد نماز کی جماعت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4929]
سائب کہتے ہیں: جماعت سے مراد نماز کی جماعت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4929]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن حبان 2101»
الحكم على الحديث: حسن