🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
978. جماع أبواب فضل الجماعة والعذر بتركها -- باب: فرض الجماعة في غير الجمعة على الكفاية
باجماعت نماز کی فضیلت اور اسے ترک کرنے کے عذر کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: جمعہ کے علاوہ نماز باجماعت کے فرض کفایہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4928
بَابُ فَرْضِ الْجَمَاعَةِ فِي غَيْرِ الْجُمُعَةِ عَلَى الْكِفَايَةِ.
یہ باب جمعہ کے علاوہ دیگر نمازوں میں باجماعت نماز ادا کرنے کے فرضِ کفایہ ہونے کے بیان میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q4928]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4928
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، وَاللَّفْظُ لَهُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِنَا، فَأَخْبَرَنَاهُ فَقَالَ:" ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا عِنْدَهُمْ، وَعَلِّمُوهُمْ، وَمُرُوهُمْ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم سب ہم عمر نوجوان تھے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیس راتیں ٹھہرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت رحم فرمانے والے اور نرم مزاج تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ ہمیں اپنے گھر والوں کی یاد ستا رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ان کے متعلق دریافت فرمایا جنہیں ہم (گھروں میں) چھوڑ آئے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھر والوں کی طرف واپس چلے جاؤ، ان کے پاس رہو، انہیں (دین کی) تعلیم دو، انہیں (بھلائی کا) حکم دو اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4928]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 602»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4928 in Urdu