السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1036. -- باب: ما جاء في مقام الإمام
-- باب: امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کے متعلق جو کچھ مروی ہے
حدیث نمبر: 5229
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مِنْ أِيِّ شَيْءٍ مِنْبَرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ عَمِلَهُ لَهُ فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانَةَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ صَعَدَ عَلَيْهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ، ثُمَّ صَعَدَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
سفیان، ابو حازم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی سوال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر کس چیز کا بنا ہوا تھا؟ انہوں نے فرمایا: لوگوں میں کوئی بھی باقی نہیں رہا جو مجھ سے زیادہ (اس بارے میں) جانتا ہو، وہ جھاؤ کی لکڑی کا بنا ہوا تھا، فلاں کے غلام نے بنایا تھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے جب وہ اس پر چڑھے تو قبلہ رخ ہو کر ” «اللّٰهُ أَكْبَرُ» “ ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، پھر قرآن پڑھا، پھر رکوع کیا، پھر الٹے پاؤں منبر سے نیچے آئے اور سجدہ کیا، پھر منبر پر چڑھ گئے تو قرآن پڑھا، پھر رکوع کیا، پھر الٹے پاؤں منبر سے نیچے آئے اور سجدہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5229]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 875»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5230
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَرَّاقُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، ثنا أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ،" أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ: مِمَّ عُودُهُ؟ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ، امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ، أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ، فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَهُنَا، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي". ⦗١٥٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَفِيهِ: فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ مَعَهُ..
ابو حازم بن دینار سے روایت ہے کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انہوں نے منبر کو دیکھا کہ کس لکڑی سے بنایا گیا ہے؟ پھر اس بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا ہے۔ میں نے اس کو اس وقت دیکھا جب وہ پہلے دن رکھا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی جانب کسی کو روانہ کیا، سہل رضی اللہ عنہ نے اس کا نام بھی لیا کہ ”تو اپنے بڑھئی غلام کو حکم دے کہ وہ مجھے خطبہ دینے کے لیے ایک منبر بنا دے“، اس نے حکم دیا تو اس نے جھاؤ کی لکڑی سے بنایا۔ وہ عورت اس کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہاں رکھ دیا گیا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر رکوع کیا۔ پھر نیچے اتر کر منبر کی جڑ میں یعنی بالکل ساتھ ہی سجدہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے اوپر چلے گئے۔ فراغت کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! یہ میں نے اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز کو جان لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5230]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5231
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ نَفَرًا جَاءُوا إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ عَنْهُ: اخْتَارَ لِلْإِمَامِ الَّذِي يَعْلَمُ مَنْ خَلْفَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى الشَّيْءِ الْمُرْتَفِعِ لِيَرَاهُ مَنْ وَرَاءَهُ، وَإِذَا عَلَمَ النَّاسَ مَرَّةً، أَحْبَبْتُ أَنْ يُصَلِّيَ مُسْتَوِيًا مَعَ الْمَأْمُومِينَ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام کو اختیار ہے، جب وہ اپنے مقتدیوں کو نماز سکھانا چاہتا ہو تو بلند جگہ نماز پڑھ کر دکھا دے۔ جب وہ نماز کو جان لیں تو امام اور مقتدی برابر زمین پر نماز پڑھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5231]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5232
وَاحْتَجَّ بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَّ النَّاسَ بِالْمَدَائِنِ عَلَى دُكَّانٍ، فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ بِقَمِيصِهِ فَجَبَذَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ:" أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ، أَوْ قَالَ: أَوْ لَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ كَانَ يُنْهَى عَنْ ذَلِكَ؟" قَالَ:" بَلَى، قَدْ ذَكَرْتُ حِينَ مَدَدْتَنِي". وَرَوَاهُ زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِمَعْنَى رِوَايَةِ يَعْلَى، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَهُ أَبُو مَسْعُودٍ:" أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ فَوْقَ، وَيَبْقَى النَّاسُ خَلْفَهُ"..
(الف) ہمام سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے مدائن میں لوگوں کی امامت ایک اونچی جگہ کروائی تو سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کی قمیص سے پکڑ کر کھینچا، جب وہ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کیا آپ نہیں جانتے کہ وہ اس سے منع کرتے تھے؟“ یا فرمایا: ”اس سے منع کیا گیا ہے۔“ فرمانے لگے: ”ہاں! مجھے یاد آ گیا جب آپ نے کھینچا تھا۔“
(ب) زیاد بن عبداللہ بکائی کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ جانتے نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا کہ امام بلند جگہ کھڑا ہو اور لوگ اس کے پیچھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5232]
(ب) زیاد بن عبداللہ بکائی کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ جانتے نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا کہ امام بلند جگہ کھڑا ہو اور لوگ اس کے پیچھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5232]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد 597»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5233
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَهُ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُسْنَدًا مَعَ اخْتِلَافٍ فِيهِ لِهَذَا.
یہی روایت ایک دوسری سند سے زیاد بن عبداللہ نے بھی بیان کی ہے۔ یہ ایک اور طریق سے مسند (متصل) بھی مروی ہے، جس میں اس روایت سے کچھ اختلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5233]
حدیث نمبر: 5234
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَخْزُومِيُّ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَخْتَرِيُّ الرَّزَّازُ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ أَبِي نَصْرٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ أَمَّهُمْ بِالْمَدَائِنِ عَلَى دُكَّانٍ فَجَبَذَهُ سَلْمَانُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: مَا أَدْرِي،" أَطَالَ بِكَ الْعَهْدُ، أَمْ نَسِيتَ؟ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يُصَلِّي الْإِمَامُ عَلَى نَشَزٍ مِمَّا عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ". ⦗١٥٥⦘ كَذَا قَالَ: سَلْمَانُ بَدَلَ أَبِي مَسْعُودٍ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُسْنَدًا مَعَ اخْتِلَافٍ فِيهِ لِمَا مَضَى.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما نے مدائن میں ان کی امامت ایک بلند جگہ پر کروائی۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے ان کو پیچھے سے پکڑ لیا اور کہا: مجھے نہیں معلوم کہ مدت زیادہ ہوگئی یا آپ بھول گئے۔ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا کہ ”امام اپنے ساتھیوں سے بلند جگہ پر نماز نہ پڑھائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5234]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5235
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو خَالِدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ،" أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ بِالْمَدَائِنِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَ عَمَّارٌ، وَقَامَ عَلَى دُكَّانٍ وَكَانَ يُصَلِّي وَالنَّاسُ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُ، فَتَقَدَّمَ حُذَيْفَةُ فَأَخَذَ عَلَى يَدَيْهِ فَاتَّبَعَهُ عَمَّارٌ حَتَّى أَنْزَلَهُ حُذَيْفَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ عَمَّارٌ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا أَمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلَا يَقُمْ فِي مَقَامٍ أَرْفَعَ مِنْ مَقَامِهِمْ". أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ. قَالَ عَمَّارٌ:" لِذَلِكَ اتَّبَعْتُكَ حِينَ أَخَذْتَ عَلَى يَدِيَّ".
عدی بن ثابت انصاری فرماتے ہیں کہ مجھے ایک شخص نے بیان کیا جو مدائن میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ نماز کی اقامت ہوئی تو عمار رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور ایک اونچی جگہ کھڑے ہو گئے تاکہ نماز پڑھائیں۔ لوگ نیچے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ عمار رضی اللہ عنہ نے ان کی پیروی کی، یہاں تک کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے انہیں نیچے اتار دیا۔ جب عمار رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کیا آپ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا کہ ”جب تم میں سے کوئی امامت کروائے تو اپنے مقتدیوں سے بلند جگہ پر کھڑا نہ ہو۔“؟ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اسی لیے تو میں نے آپ کی پیروی کی جب آپ نے میرے ہاتھ پکڑے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5235]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أبو داؤد 598»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ