🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1036. -- باب: ما جاء في مقام الإمام
-- باب: امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کے متعلق جو کچھ مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5230
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَرَّاقُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، ثنا أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ،" أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ: مِمَّ عُودُهُ؟ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ، امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ، أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ، فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَهُنَا، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي". ⦗١٥٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَفِيهِ: فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ مَعَهُ..
ابو حازم بن دینار سے روایت ہے کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انہوں نے منبر کو دیکھا کہ کس لکڑی سے بنایا گیا ہے؟ پھر اس بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا ہے۔ میں نے اس کو اس وقت دیکھا جب وہ پہلے دن رکھا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی جانب کسی کو روانہ کیا، سہل رضی اللہ عنہ نے اس کا نام بھی لیا کہ ”تو اپنے بڑھئی غلام کو حکم دے کہ وہ مجھے خطبہ دینے کے لیے ایک منبر بنا دے“، اس نے حکم دیا تو اس نے جھاؤ کی لکڑی سے بنایا۔ وہ عورت اس کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہاں رکھ دیا گیا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر رکوع کیا۔ پھر نیچے اتر کر منبر کی جڑ میں یعنی بالکل ساتھ ہی سجدہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے اوپر چلے گئے۔ فراغت کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! یہ میں نے اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز کو جان لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5230]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5230 in Urdu