السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1043. جماع أبواب صلاة الإمام وصفة الأئمة -- باب: ما على الإمام من التخفيف
امام کی نماز اور ائمہ کے اوصاف سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: امام کے ذمے نماز کو کس قدر ہلکا پڑھانا لازم ہے
حدیث نمبر: 5270
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَوَالِيَّ قَرَابَةٌ فَكَانَ يَؤُمُّ النَّاسَ فَيُخَفِّفُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَأَوْجَزُ".
اسماعیل بن خالد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں مدینہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان کے اور میرے آقاؤں کے درمیان قرابت تھی، وہ لوگوں کو امامت کرواتے تھے اور نماز مختصر پڑھاتے تھے۔ میں نے پوچھا: اے ابوہریرہ! کیا اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی؟ فرمایا: ”ہاں، بلکہ اس سے بھی مختصر تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5270]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو يعليٰ 6422»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5271
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ:" أَقْبَلَ رَجُلٌ بِنَاضِحَيْنِ وَقَدْ جَنَحَ اللَّيْلُ، فَوَافَقَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَتَرَكَ نَاضِحَيْهِ وَأَقْبَلَ إِلَى مُعَاذٍ لِيُصَلِّيَ مَعَهُ، فَقَرَأَ مُعَاذٌ الْبَقَرَةَ وَالنِّسَاءَ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ وَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا أَنَالَ مِنْهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا إِلَيْهِ مُعَاذًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَاتِنٌ أَنْتَ، أَوْ قَالَ: أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَلَوْلَا صَلَّيْتَ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، فَإِنَّهُ يُصَلِّي وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ، وَذُو الْحَاجَةِ، وَالضَّعِيفُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، كَذَا قَالَ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ: الْمَغْرِبُ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرٍ: الْعِشَاءُ. أَمَّا حَدِيثُ عَمْرٍو فَقَدْ مَضَى فِي هَذَا الْكِتَابِ فِي مَوْضِعَيْنِ. وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي الزُّبَيْرِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی اپنے دو پانی ڈھونے والے اونٹ لے کر آیا اور رات کا ایک حصہ گزر چکا تھا، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، اس نے اپنے اونٹوں کو چھوڑا اور معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوا تاکہ ان کے ساتھ نماز پڑھے، معاذ رضی اللہ عنہ نے سورہ بقرہ اور سورہ نساء شروع کر دی، وہ آدمی چلا گیا اور اس کو خبر ملی کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کو تکلیف پہنچائی ہے، پھر اس نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! تم فتنہ پھیلا رہے ہو“، تین مرتبہ فرمایا، ”اگر تو یہ سورتیں پڑھ لے: ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾ [سورة الشمس: 1] اور ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى﴾ [سورة الليل: 1] کیونکہ تیرے پیچھے بوڑھے، ضرورت مند اور کمزور نماز پڑھتے ہیں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5271]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5100»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5272
فَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ⦗١٦٦⦘ صَلَّى الْعِشَاءَ فَطَوَّلَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذٍ:" أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ، خَفِّفْ عَلَى النَّاسِ، وَاقْرَأْ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَنَحْوِ ذَلِكَ، وَلَا تَشُقَّ عَلَى النَّاسِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ" اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى" وَلَمْ يَقُلْ" وَلَا تَشُقَّ عَلَى النَّاسِ". وَأَمَّا حَدِيثُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِقْسَمٍ.
(الف) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشا کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! تو فتنے باز ہے۔ لوگوں پر تخفیف کرو۔ یہ سورتیں پڑھا کرو: «وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا»، «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» اور اسی طرح کی سورتیں اور لوگوں پر مشقت نہ کرو۔“
(ب) لیث بن سعد کی روایت میں کچھ اضافہ ہے کہ ”تو پڑھ: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] ، ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى﴾ [سورة الليل: 1] “ اور لوگوں پر مشقت نہ کرنے والا جملہ بیان نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5272]
(ب) لیث بن سعد کی روایت میں کچھ اضافہ ہے کہ ”تو پڑھ: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] ، ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى﴾ [سورة الليل: 1] “ اور لوگوں پر مشقت نہ کرنے والا جملہ بیان نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5272]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5100»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5273
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ مُعَاذٍ وَتِلْكَ الْقِصَّةَ قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ فَرَجَعَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِهِمْ، وَصَلَّى خَلْفَهُ فَتًى مِنْ قَوْمِهِ، فَلَمَّا طَالَ عَلَى الْفَتَى صَلَّى وَخَرَجَ وَأَخَذَ بِخِطَامِ بَعِيرِهِ وَانْطَلَقَ، فَلَمَّا صَلَّى مُعَاذٌ ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا بِهِ لَنِفَاقٌ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي صَنَعَ، وَقَالَ الْفَتَى: وَأَنَا لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي صَنَعَ، فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ مُعَاذٌ بِالَّذِي صَنَعَ الْفَتَى، فَقَالَ الْفَتَى: يَا رَسُولَ اللهِ يُطِيلُ الْمُكْثَ عِنْدَكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُطِيلُ عَلَيْنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟"، وَقَالَ للْفَتَى:" كَيْفَ تَصْنَعُ أَنْتَ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا صَلَّيْتَ؟" قَالَ: أَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَأَسْأَلُ اللهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَأَنِّي لَا أَدْرِي مَا دَنْدَنَتُكَ وَدَنْدَنَةُ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي وَمُعَاذٌ حَوْلَ هَاتَيْنِ، أَوْ نَحْوَ ذَا" قَالَ: فَقَالَ الْفَتَى: وَلَكِنْ سَيَعْلَمُ مُعَاذٌ إِذَا قَدِمَ الْقَوْمُ وَقَدْ خُبِّرُوا أَنَّ الْعَدُوَّ قَدْ أَتَوْا، قَالَ: فَقَدِمُوا، فَاسْتُشْهِدَ الْفَتَى. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ لِمُعَاذٍ:" مَا فَعَلَ خَصْمِي وَخَصْمُكَ؟" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، صَدَقَ اللهَ، وَكَذَبْتُ، اسْتُشْهِدَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا قصہ ذکر کیا، اس میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشا کی نماز پڑھتے تھے، پھر واپس آ کر اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ ایک رات واپس آ کر نماز پڑھائی اور ان کی قوم کے ایک نوجوان نے ان کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب نوجوان پر نماز لمبی ہوئی تو اس نے جماعت کو چھوڑا اور اپنی نماز پڑھی اور اپنے اونٹ کی نکیل پکڑی اور چلا گیا۔ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو انھیں بتایا گیا تو وہ کہنے لگے: ”یہ منافق ہے، میں اس کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوں گا۔“ اور نوجوان کہنے لگا: ”میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دوں گا۔“ جو اس نے کیا۔ صبح کے وقت وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، جو نوجوان نے کیا تھا۔ نوجوان کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زیادہ دیر ٹھہرتے ہیں اور واپس آ کر ہمیں لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے؟“ اور نوجوان سے پوچھا: ”اے بھتیجے! جب تو نماز پڑھتا ہے تو کیا کرتا ہے؟“ کہنے لگا: ”میں سورہ فاتحہ پڑھتا ہوں اور اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور معاذ کی گنگناہٹ نہیں سمجھ پاتا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور معاذ ان دو کے ارد گرد ہیں“ یا اس کی مثل فرمایا۔ راوی کہتے ہیں: نوجوان نے کہا: ”لیکن معاذ جان لیں گے جب لوگ آئیں گے اور انھیں خبر دی جا چکی ہے کہ دشمن آ گیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ آئے تو نوجوان شہید ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میرے اور تیرے ساتھ جھگڑا کرنے والے کا کیا بنا؟“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اس نے اللہ سے سچ کر دکھایا اور میں نے غلط کہا، وہ شہید ہو گیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5273]
حدیث نمبر: 5274
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا طَالِبُ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جَابِرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ حَزْمِ بْنِ أَبِي كَعْبٍ أَنَّهُ أَتَى مُعَاذًا وَهُوَ يُصَلِّي بِقَوْمِهِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مُعَاذُ، لَا تَكُنْ فَتَّانًا، فَإِنَّهُ يُصَلِّي وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَالضَّعِيفُ وَذُو الْحَاجَةِ وَالْمُسَافِرُ". كَذَا قَالَ، وَالرِّوَايَاتُ الْمُتَقَدِّمَةُ فِي الْعِشَاءِ أَصَحُّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حزم بن ابی کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ اپنی قوم کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! تو فتنہ باز نہ بن، کیونکہ تیرے پیچھے بوڑھے، کمزور اور ضرورت مند یا کام والے اور مسافر نماز پڑھتے ہیں۔“
پہلے والی روایات جن میں عشاء کا ذکر ہے، زیادہ صحیح ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5274]
پہلے والی روایات جن میں عشاء کا ذکر ہے، زیادہ صحیح ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5274]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد 791»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ