السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1059. -- باب: الإمام الراتب أولى من الزائر
-- باب: مقررہ امام آنے والے (مہمان) سے زیادہ امامت کا حق دار ہے
حدیث نمبر: 5324
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبَانُ، عَنْ بُدَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ مَوْلًى مِنَّا قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا إِلَى مُصَلَّانَا هَذَا، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقُلْنَا لَهُ: تَقَدَّمْ فَصَلِّ، فَقَالَ لَنَا: قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ ⦗١٨٠⦘ يُصَلِّي بِكُمْ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمُّهُمْ، وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ".
ابو عطیہ رحمہ اللہ جو ہمارے غلام تھے فرماتے ہیں کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس اس مسجد میں آئے تو نماز کی اقامت کہی گئی تھی، ہم نے ان سے کہا: نماز پڑھاؤ۔ انہوں نے کہا کہ تم اپنے آدمی کو آگے کرو، وہ نماز پڑھائے، عنقریب میں تمہیں بیان کروں گا کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھاتا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ”جو کوئی کسی قوم کی زیارت کے لیے گیا وہ ان کی امامت نہ کروائے بلکہ ان کا آدمی ان کی امامت کرائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5324]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ احمد 5/53»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5325
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فِي مَسْجِدٍ بِطَائِفَةِ الْمَدِينَةِ وَلِابْنِ عُمَرَ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ أَرْضٌ يَعْمَلُهَا، وَإِمَامُ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ مَوْلًى لَهُ، وَمَسْكَنُ ذَلِكَ الْمَوْلَى وَأَصْحَابِهِ ثَمَّ، فَلَمَّا سَمِعَهُمْ عَبْدُ اللهِ جَاءَ لِيَشْهَدَ مَعَهُمُ الصَّلَاةَ فَقَالَ لَهُ الْمَوْلَى صَاحِبُ الْمَسْجِدِ: تَقَدَّمْ فَصَلِّ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تُصَلِّيَ فِي مَسْجِدِكَ مِنِّي"، فَصَلَّى الْمَوْلَى.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ کے گرد و نواح میں ایک مسجد میں اقامت کہی گئی اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس مسجد کے قریب زمین تھی وہ اس میں کام کرتے تھے۔ اس مسجد کا امام ان کا غلام تھا۔ اس غلام اور اس کے ساتھیوں کی رہائش گاہ اس جگہ تھی، جب ان کو پتہ چلا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز کے لیے آئے ہیں تو کہنے لگے: آگے بڑھو اور جماعت کراؤ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: آپ زیادہ حق دار ہیں کہ اپنی مسجد میں جماعت کروائیں، تو ان کے غلام نے جماعت کروائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5325]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ عبد الرزاق 3850»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5326
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ هُزَيْلَ بْنَ شُرَحْبِيلَ قَالَ:" جَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِلَى مَسْجِدِنَا فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقُلْنَا لَهُ: تَقَدَّمْ، قَالَ:" يَتَقَدَّمُ إِمَامُكُمْ"، قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّ إِمَامَنَا لَيْسَ هَهُنَا، قَالَ:" يَتَقَدَّمُ رَجُلٌ مِنْكُمْ"، فَقَامَ عَلَى دُكَّانٍ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَنَهَاهُ عَبْدُ اللهِ عَنْ ذَلِكَ". وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي مَعْنَاهُ.
ہزیل بن شرحبیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے تو اقامت کہہ دی گئی۔ ہم نے کہا: آگے بڑھو جماعت کراؤ۔ انہوں نے فرمایا: تمہارا امام آگے بڑھ کر جماعت کروائے۔ ہم نے کہا: ہمارا امام یہاں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا: کوئی اور آگے بڑھے، تو وہ مسجد کے چبوترے پر کھڑا ہو گیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5326]
تخریج الحدیث: «حسن۔ الطبراني في الكبير 9560»
الحكم على الحديث: حسن