السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1059. -- باب: الإمام الراتب أولى من الزائر
-- باب: مقررہ امام آنے والے (مہمان) سے زیادہ امامت کا حق دار ہے
حدیث نمبر: 5325
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فِي مَسْجِدٍ بِطَائِفَةِ الْمَدِينَةِ وَلِابْنِ عُمَرَ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ أَرْضٌ يَعْمَلُهَا، وَإِمَامُ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ مَوْلًى لَهُ، وَمَسْكَنُ ذَلِكَ الْمَوْلَى وَأَصْحَابِهِ ثَمَّ، فَلَمَّا سَمِعَهُمْ عَبْدُ اللهِ جَاءَ لِيَشْهَدَ مَعَهُمُ الصَّلَاةَ فَقَالَ لَهُ الْمَوْلَى صَاحِبُ الْمَسْجِدِ: تَقَدَّمْ فَصَلِّ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تُصَلِّيَ فِي مَسْجِدِكَ مِنِّي"، فَصَلَّى الْمَوْلَى.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ کے گرد و نواح میں ایک مسجد میں اقامت کہی گئی اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس مسجد کے قریب زمین تھی وہ اس میں کام کرتے تھے۔ اس مسجد کا امام ان کا غلام تھا۔ اس غلام اور اس کے ساتھیوں کی رہائش گاہ اس جگہ تھی، جب ان کو پتہ چلا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز کے لیے آئے ہیں تو کہنے لگے: آگے بڑھو اور جماعت کراؤ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: آپ زیادہ حق دار ہیں کہ اپنی مسجد میں جماعت کروائیں، تو ان کے غلام نے جماعت کروائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5325]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ عبد الرزاق 3850»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5325 in Urdu