السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1175. -- باب: الرجل يقوم للرجل من مجلسه
-- باب: آدمی کا کسی (دوسرے) آدمی کے لیے اپنی بیٹھنے کی جگہ سے کھڑے ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 5899
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ حَمَّوَيهِ النَّسَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْخَصِيبِ يُحَدِّثُ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ مَقْعَدِهِ، فَأَبَى أَنْ يَقْعُدَ فِيهِ وَقَعَدَ فِي مَكَانٍ آخَرَ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ: مَا كَانَ عَلَيْكَ أَنْ تَقْعُدَ؟ قَالَ: مَا كُنْتُ، يَعْنِي أَقْعُدُ فِي مَجْلِسِكَ وَلَا فِي مَجْلِسِ غَيْرِكَ بَعْدَمَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْعُدَ مَقْعَدَهُ، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ" هَكَذَا أَتَى بِهِ أَبُو الْخَصِيبِ زِيَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ مُصِيبٌ فِي رِوَايَةِ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ كَذَلِكَ، إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَ سَالِمًا وَنَافِعًا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُمَا رَوَيَا عَنْهُ الْحَدِيثَ فِي الْإِقَامَةِ دُونَ الْقِيَامِ، وَرُوِيَ أَيْضًا عَنْ أَبِي بَكَرَةَ.
ابو خصیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما آئے تو ایک آدمی نے اپنی جگہ چھوڑ دی، انہوں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور دوسری جگہ بیٹھ گئے۔ وہ آدمی کہہ رہا تھا: کیا حرج تھا کہ آپ وہاں بیٹھ جاتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: نہ تیری جگہ اور نہ کسی اور کی جگہ میں بیٹھنے والا ہوں، جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”ایک آدمی آیا تو دوسرے نے اس کے لیے جگہ چھوڑ دی، اس نے اس کی جگہ بیٹھنے کا ارادہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا“۔
ابو خصیب زیاد بن عبد الرحمن نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بیان کرنے میں وہ درست ہیں، کیونکہ سالم بن عبداللہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کردہ حدیث کے الفاظ میں انہوں نے سالم اور نافع کی مخالفت کی ہے، کیونکہ ان دونوں نے ان سے یہ حدیث (کسی کو) اٹھانے کے بارے میں روایت کی ہے، نہ کہ (خود) اٹھ جانے کے بارے میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5899]
ابو خصیب زیاد بن عبد الرحمن نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بیان کرنے میں وہ درست ہیں، کیونکہ سالم بن عبداللہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کردہ حدیث کے الفاظ میں انہوں نے سالم اور نافع کی مخالفت کی ہے، کیونکہ ان دونوں نے ان سے یہ حدیث (کسی کو) اٹھانے کے بارے میں روایت کی ہے، نہ کہ (خود) اٹھ جانے کے بارے میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5899]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 2/84»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5900
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ مَوْلَى آلِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: جَاءَ أَبُو بَكَرَةٍ فِي شَهَادَةٍ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ، وَقَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَا، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَمْ يَكْسُهُ". هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ شُعْبَةَ، وَرَوَاهُ عَنْهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ بِالشَّكِّ فِي مَتْنِهِ.
سعید بن ابوالحسن نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کسی گواہی کے سلسلے میں آئے تو ایک آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا، انہوں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس سے منع کیا ہے اور اس سے بھی کہ آدمی کسی کے کپڑے سے ہاتھ صاف کرے جو اس کو پہنائے نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5900]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 4827»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5901
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، أَنَّ أَبَا بَكَرَةَ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فِي شَهَادَةٍ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ مَجْلِسِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكَرَةَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَامَ لَكَ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَلَا تَجْلِسْ فِيهِ"، أَوْ قَالَ:" لَا تُقِمْ رَجُلًا مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ تَجْلِسُ فِيهِ، وَلَا تَمَسَحْ يَدَكَ بِثَوْبِ مَنْ لَا تَمْلِكُ". فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْإِقَامَةِ كَمَا رَوَاهُ الْحُفَّاظُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ، وَأَبَا بَكَرَةَ كَانَا يَتَنَزَّهَانِ عَنِ الْجُلُوسِ، وَإِنْ قَامُوا لَهُمَا تَبَرُّعًا دُونَ الْإِقَامَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(الف) سعید بن ابوالحسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ گواہی کے سلسلہ میں آئے تو ان کے لیے ایک آدمی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب کوئی آدمی تیرے لیے اپنی جگہ چھوڑے تو اس جگہ نہ بیٹھ“ یا فرمایا: ”کسی آدمی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھا کہ پھر تو اس میں بیٹھ جائے اور ایسے کپڑے سے ہاتھ صاف نہ کر جس کا تو مالک نہیں۔“
(ب) احتمال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث (کسی کو) اٹھانے کی ممانعت کے بارے میں ہو، جیسا کہ حفاظ نے ابن عمر اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور ابن عمر اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما دونوں حضرات احتیاطاً (اس جگہ) بیٹھنے سے بچتے تھے، اگرچہ لوگ اٹھائے بغیر اپنی خوشی سے ان کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5901]
(ب) احتمال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث (کسی کو) اٹھانے کی ممانعت کے بارے میں ہو، جیسا کہ حفاظ نے ابن عمر اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور ابن عمر اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما دونوں حضرات احتیاطاً (اس جگہ) بیٹھنے سے بچتے تھے، اگرچہ لوگ اٹھائے بغیر اپنی خوشی سے ان کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5901]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطيالسي 871»
الحكم على الحديث: ضعيف