🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1175. -- باب: الرجل يقوم للرجل من مجلسه
-- باب: آدمی کا کسی (دوسرے) آدمی کے لیے اپنی بیٹھنے کی جگہ سے کھڑے ہو جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5899
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ حَمَّوَيهِ النَّسَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْخَصِيبِ يُحَدِّثُ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ مَقْعَدِهِ، فَأَبَى أَنْ يَقْعُدَ فِيهِ وَقَعَدَ فِي مَكَانٍ آخَرَ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ: مَا كَانَ عَلَيْكَ أَنْ تَقْعُدَ؟ قَالَ: مَا كُنْتُ، يَعْنِي أَقْعُدُ فِي مَجْلِسِكَ وَلَا فِي مَجْلِسِ غَيْرِكَ بَعْدَمَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْعُدَ مَقْعَدَهُ، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ" هَكَذَا أَتَى بِهِ أَبُو الْخَصِيبِ زِيَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ مُصِيبٌ فِي رِوَايَةِ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ كَذَلِكَ، إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَ سَالِمًا وَنَافِعًا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُمَا رَوَيَا عَنْهُ الْحَدِيثَ فِي الْإِقَامَةِ دُونَ الْقِيَامِ، وَرُوِيَ أَيْضًا عَنْ أَبِي بَكَرَةَ.
ابو خصیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما آئے تو ایک آدمی نے اپنی جگہ چھوڑ دی، انہوں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور دوسری جگہ بیٹھ گئے۔ وہ آدمی کہہ رہا تھا: کیا حرج تھا کہ آپ وہاں بیٹھ جاتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: نہ تیری جگہ اور نہ کسی اور کی جگہ میں بیٹھنے والا ہوں، جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”ایک آدمی آیا تو دوسرے نے اس کے لیے جگہ چھوڑ دی، اس نے اس کی جگہ بیٹھنے کا ارادہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا“۔
ابو خصیب زیاد بن عبد الرحمن نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بیان کرنے میں وہ درست ہیں، کیونکہ سالم بن عبداللہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کردہ حدیث کے الفاظ میں انہوں نے سالم اور نافع کی مخالفت کی ہے، کیونکہ ان دونوں نے ان سے یہ حدیث (کسی کو) اٹھانے کے بارے میں روایت کی ہے، نہ کہ (خود) اٹھ جانے کے بارے میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5899]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 2/84»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5899 in Urdu