السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1187. -- باب: الدنو من الإمام عند الخطبة، والصلاة في المقصورة
-- باب: خطبے کے وقت امام کے قریب ہونے اور مقصورہ (گھرے ہوئے حجرے) میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 5929
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ: قَالَ قَتَادَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" احْضُرُوا لِلذِّكْرِ، وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ؛ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ دَخَلَهَا". كَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ عَلِيٍّ، وَهُوَ الصَّحِيحُ. وَقَدْ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خطبہ میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب بیٹھو، کیونکہ جب انسان ہمیشہ دور رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں بھی پیچھے رکھے گا، اگرچہ وہ جنت میں داخل ہو بھی جائے۔“
ابوداؤد نے علی (بن عبداللہ) سے اسی طرح روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5929]
ابوداؤد نے علی (بن عبداللہ) سے اسی طرح روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5929]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابو داؤد 1108»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 5930
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، فَذَكَرَهُ. وَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا وَاهِمًا فِي ذِكْرِ سَمَاعِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ هُوَ أَوْ شَيْخُهُ، فَأَمَّا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي فَهُوَ أَجَلُّ مِنْ ذَاكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سابقہ حدیث اس ذکر کے ساتھ بھی مروی ہے۔
میرا خیال ہے کہ معاذ کے اپنے والد سے سماع کے ذکر میں اس راوی کو یا اس کے شیخ کو وہم ہوا ہے، رہے اسماعیل قاضی تو وہ اس سے بلند مرتبہ ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5930]
میرا خیال ہے کہ معاذ کے اپنے والد سے سماع کے ذکر میں اس راوی کو یا اس کے شیخ کو وہم ہوا ہے، رہے اسماعیل قاضی تو وہ اس سے بلند مرتبہ ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5930]
حدیث نمبر: 5931
وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَهْرَيَارَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ قَالَا: ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ ⦗٣٣٨⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْضُرُوا الْجُمُعَةَ، وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ؛ فَإِنَّ الرَّجُلَ يَتَخَلَّفُ عَنِ الْجُمُعَةِ حَتَّى إِنَّهُ لِيَتَخَلَّفُ عَنِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِهَا". وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ شَهْرَيَارَ:" لَيَتَأَخَّرُ عَنِ الْجُمُعَةِ حَتَّى إِنَّهُ لَيُؤَخَّرُ عَنِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِهَا".
(الف) سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب بیٹھو؛ کیونکہ آدمی جب جمعہ سے دور رہتا ہے تو اللہ اس کو جنت سے پیچھے چھوڑ دیتا ہے اگرچہ وہ جنت کا اہل ہی کیوں نہ ہو۔“
(ب) ابن شہریار کی روایت میں ہے کہ ”وہ جمعہ سے مؤخر ہوتا ہے تو اللہ اس کو جنت سے مؤخر کر دیں گے اگرچہ وہ اس کا اہل بھی ہوا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5931]
(ب) ابن شہریار کی روایت میں ہے کہ ”وہ جمعہ سے مؤخر ہوتا ہے تو اللہ اس کو جنت سے مؤخر کر دیں گے اگرچہ وہ اس کا اہل بھی ہوا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5931]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5932
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ:" رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ بُسْرٍ يَعْنِي صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْمَقْصُورَةِ، قَالَ: وَإِنْ كَانَ يُغَيِّرُ خِضَابَهُ بِالْوَرْسِ".
عتبہ بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی، وہ مسجد کے مقصورہ (مخصوص جگہ) میں نماز پڑھا کرتے تھے اور اپنے خضاب کو ورس بوٹی کے ذریعے تبدیل کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5932]