السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1192. -- باب: المأموم يركع في المسجد فيتحول عن مقامه أو يفصل بينهما بكلام
-- باب: مقتدی مسجد میں (سنتوں کی) رکعتیں پڑھے تو اپنی جگہ سے ہٹ جائے یا ان (فرض اور سنتوں) کے درمیان بات چیت سے فاصلہ کرے
حدیث نمبر: 5944
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي ⦗٣٤١⦘ خُوَارٍ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ، يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ:" نَعَمْ، صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تُكَلِّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَ بِذَلِكَ أَنْ لَا تُوصِلَ بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ". وَفِي رِوَايَةِ النَّرْسِيِّ" أَنْ لَا تُصَلِّيَ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
عمر بن عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نافع بن جبیر رحمہ اللہ نے ان کو سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ کیا کہ وہ ان سے سوال کریں جو انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی نماز کو دیکھا ہے۔ کہنے لگے: میں نے ان کے ساتھ مقصورہ میں نماز جمعہ ادا کی۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہوا اور نماز پڑھی۔ جب وہ (گھر) داخل ہوئے تو میری طرف پیغام بھیجا کہ آئندہ ایسا نہ کرنا جو تم نے کیا ہے، ”جب آپ نماز جمعہ ادا کریں تو اس کے ساتھ کوئی دوسری نماز نہ ملائیں یہاں تک کہ اپنی جگہ تبدیل کر لیں یا کلام کر لیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے کہ نماز کے ساتھ نماز کو نہ ملایا جائے جب تک کہ جگہ کی تبدیلی ہو یا پھر درمیان میں کلام“۔ نرسی کی روایت میں ہے کہ اپنی جگہ چھوڑ دو یا کلام کر لو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5944]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 883»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5945
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي مَقَامِهِ، فَدَفَعَهُ وَقَالَ:" تُصَلِّي الْجُمُعَةَ أَرْبَعًا؟" قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي فِي بَيْتِهِ رَكْعَتَيْنِ وَيَقُولُ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ".
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے بعد اپنی جگہ پر نماز پڑھ رہا ہے تو اس کو ہٹا دیا اور فرمایا: ”تو جمعہ کی نماز چار رکعات پڑھے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گھر میں چار رکعات پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5945]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5942۔ 5937»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5946
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" كَانَ إِذَا كَانَ بِمَكَّةَ وَصَلَّى الْجُمُعَةَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّى أَرْبَعًا وَإِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ صَلَّى الْجُمُعَةَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْمَسْجِدِ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
عطا رحمہ اللہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ مکہ میں تھے تو انہوں نے نماز جمعہ ادا کی اور آگے بڑھ کر دو رکعات پڑھیں، پھر آگے بڑھ کر چار رکعات ادا فرمائیں اور جب مدینہ میں تھے تو نماز جمعہ ادا کی۔ پھر گھر واپس آئے اور دو رکعات ادا کیں، مسجد میں نماز نہیں پڑھی، ان سے پوچھا گیا تو فرمانے لگے: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5946]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أبو داؤد 1130»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5947
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ:" رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ فَيَتَنَحَّى عَنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ قَلِيلًا غَيْرَ كَثِيرٍ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَمْشِي أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ يَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: كَمْ رَأَيْتَهُ يَصْنَعُ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِرَارًا، فَإِذَا فَرَغَ جَاءَ إِلَى الطَّوَافِ".
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ نمازِ جمعہ کے بعد اپنی جگہ سے تھوڑا سا ہٹے جہاں نماز پڑھی تھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر بائیں جانب چلے اور چار رکعات ادا کیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: آپ نے کتنی بار ان کو دیکھا کہ وہ ایسے کرتے تھے؟ فرمایا: کئی مرتبہ۔ جب وہ فارغ ہوتے تو طواف کے لیے آ جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5947]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد 1133»
الحكم على الحديث: صحيح