السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1290. -- باب: الخطبة بعد صلاة الكسوف
-- باب: سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 6359
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللهَ، وَكَبِّرُوا، وَتَصَدَّقُوا" ثُمَّ قَالَ:" يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاللهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنَ اللهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ مَالِكٍ.
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لمبا قیام کیا، لیکن پہلے سے مختصر۔ پھر لمبا رکوع کیا لیکن پہلے سے ذرا کم، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا۔ پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا، پھر سلام پھیر دیا اور سورج روشن ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”سورج اور چاند کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم اس کو دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، اللہ کی بڑائی بیان کرو اور صدقہ دو۔“ پھر فرمایا: ”اے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں کہ اس کا بندہ یا بندی زنا کرے،“ پھر فرمایا: ”اے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخُسُوفِ/حدیث: 6359]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 6307»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6360
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَهِيَ تُصَلِّي، فَقُلْتُ: ⦗٤٧١⦘ مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. فَأَطَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِيَامَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ، فَأَخَذْتُ قِرْبَةً مِنْ مَاءٍ إِلَى جَنْبِي فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا، حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا، أَوْ مِثْلَ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ". لَا أَدْرِي أِيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ،" يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ: مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ فَيَقُولُ: هُوَ مُحَمَّدٌ، هُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَيُقَالُ لَهُ: قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِهِ، فَنَمْ صَالِحًا، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي أِيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ." فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُ". قَالَ أَبُو الْفَضْلِ: وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، وہ نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے کہا: ”لوگوں کی کیا حالت ہے کہ وہ (اس طرح) نماز پڑھ رہے ہیں؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سر کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے کہا: ”یہ (کوئی خاص) نشانی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت طویل قیام کیا، یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہوگئی۔ میں نے ایک چھوٹا مشکیزہ اپنے پہلو میں رکھا اور سر پر پانی ڈالنے لگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج روشن ہو چکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: ”جس چیز کا بھی تمہیں وعدہ کیا گیا تھا میں نے اس کو اپنی اس جگہ پر دیکھ لیا، یہاں تک کہ جنت اور جہنم بھی۔ پھر میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں مسیح دجال کے فتنے کی طرح یا اس کے قریب آزمائے جاؤ گے۔“ (اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”تم میں سے ہر ایک کو لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس آدمی کے بارے میں تم کیا جانتے ہو؟ تو مومن اور یقین رکھنے والا کہے گا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اللہ کے رسول ہیں، وہ ہمارے پاس واضح دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے تو ہم نے ان کی بات کو قبول کیا اور ان کی اطاعت کی، ایسا وہ تین بار کہے گا۔ پھر اس مومن سے کہا جائے گا کہ ہم جانتے تھے کہ تو ان پر ایمان رکھتا ہے، تو آرام سے سو جا۔ اور منافق یا شکی آدمی کہے گا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ کون ہیں، میں نے لوگوں سے سنا تھا کہ وہ کچھ کہتے ہیں تو میں نے بھی وہی کہہ دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخُسُوفِ/حدیث: 6360]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6857»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6361
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا زُهَيْرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ عِبَادٍ الْعَبْدِيُّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةً يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ:" بَيْنَا أَنَا يَوْمًا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضًا لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ عَلَى قِيدِ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ مِنَ الْأُفُقِ، اسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَاللهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا. فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا هُوَ بَارِزٌ، فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، لَا يُسْمَعُ لَهُ صَوْتُهُ، ثُمَّ رَكَعَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، لَا يُسْمَعُ لَهُ صَوْتُهُ، ثُمَّ سَجَدَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا سَجَدَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، لَا يُسْمَعُ لَهُ صَوْتُهُ، قَالَ: ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَوَافَقَ تَجَلِّي الشَّمْسِ جُلُوسَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ، فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَرَسُولُ اللهِ، فَأُذَكِّرُكُمُ اللهَ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالِاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالِاتِ رَبِّي كَمَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُبَلَّغَ، وَإِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَدْ بَلَّغْتُ رِسَالِاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي" قَالَ: فَقَامَ النَّاسُ فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالِاتِ رَبِّكَ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ. قَالَ: ثُمَّ سَكَتُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ ⦗٤٧٢⦘ الشَّمْسِ، وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ، وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، وَأَنَّهُمْ كَذَبُوا، وَلَكِنْ آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللهِ يَفْتِنُ بِهَا عِبَادَهُ لَيَنْظُرَ مَنْ يُحْدِثُ مِنْهُمْ تَوْبَةً، وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُونَ فِي دُنْيَاكُمْ وَأُخْرَاكُمْ، وَإِنَّهُ وَاللهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا، آخِرُهُمُ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي يَحْيَى لِشَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَإِنَّهُ مَتَى خَرَجَ فَإِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللهُ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَاتَّبَعَهُ فَلَيْسَ يَنْفَعُهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلٍ سَالِفٍ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَهُ فَلَيْسَ يُعَاقَبُ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ، وَإِنَّهُ يُحْضِرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيُزَلْزَلُونَ زِلْزَالًا شَدِيدًا، فَيَهْزِمُهُ اللهُ وَجُنُودُهُ، حَتَّى أَنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ وَأَصْلَ الشَّجَرَةِ لَيُنَادِي: يَا مُؤْمِنُ، هَذَا كَافِرٌ يَسْتَتِرُ بِي، تَعَالَ اقْتُلْهُ، قَالَ: وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ، تَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ: هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا، وَحَتَّى يَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاسِيهَا، ثُمَّ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ". قَالَ: ثُمَّ شَهِدْتُ خُطْبَةً أُخْرَى قَالَ: فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ مَا قَدَّمَهَا وَلَا أَخَّرَهَا".
ثعلبہ بن عباد عبدی بصری ایک دن سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا: میں اور انصار کے بچے ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نشانہ بازی کر رہے تھے کہ سورج آسمان کے کنارے میں دو نیزے یا تین نیزے کی مقدار کے مطابق لگ رہا تھا اور سورج بے نور ہو چکا تھا تو ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ”ہمارے ساتھ مسجد چلیے۔ اللہ کی قسم! اس سورج نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے نئی بات پیدا کر دی ہے۔“ ہم مسجد کی طرف لوٹے۔ اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ظاہر ہوئے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موافقت کی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف نکلے۔ راوی فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ اتنا لمبا قیام کیا کہ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ہمیں اتنا لمبا قیام نہیں کروایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بھی سنائی نہ دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا رکوع کروایا، جتنا کبھی پہلے نہیں کروایا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سجدہ کروایا اور اتنا لمبا کہ پہلے کبھی اتنا لمبا سجدہ نہیں کروایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بھی سنائی نہ دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا اور سورج روشن ہونے تک دوسری رکعت میں بیٹھے رہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، پھر فرمایا: ”اے لوگو! میں انسان ہوں اور اللہ کا رسول ہوں۔ میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچانے میں کوتاہی کی ہے، تو تم مجھے خبر دو یہاں تک کہ میں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دوں جیسا کہ مناسب ہے کہ ان کو پہنچایا جائے۔ اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے تو مجھے خبر دے دو۔“ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے اور اپنی امت کی خیر خواہی کی اور آپ نے وہ حق ادا کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر تھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر سارے خاموش ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ چاند اور سورج کا گرہن ہونا اور ستاروں کا اپنے طلوع ہونے کی جگہوں سے زائل ہو جانا زمین والوں میں سے کسی بڑے کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے، حالانکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں، جس کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے کہ کون اس سے توبہ کرتا ہے۔ اللہ کی قسم! جب سے میں نماز کے لیے کھڑا ہوا ہوں تو میں نے وہ سب کچھ دیکھا ہے جسے تم دنیا اور آخرت میں ملنے والے ہو اور اللہ کی قسم! اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ تیس جھوٹے آدمی نہ نکلیں گے۔ ان میں سے آخری بائیں آنکھ سے کانا دجال ہو گا۔“
”اس کی آنکھ ایسے ہو گی، جیسے انصار کے بوڑھے ابو یحییٰ کی آنکھ ہے۔ جب وہ نکلے گا تو اس کا گمان ہو گا کہ وہ اللہ ہے۔ جو اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق اور اتباع کی تو اس کے پہلے والے نیک عمل بھی اس کو فائدہ نہیں دیں گے اور جس نے اس کا انکار اور تکذیب کی اس کو اس کے پہلے برے اعمال کی وجہ سے سزا نہ دی جائے گی۔ وہ پوری زمین پر غلبہ پا لے گا سوائے حرم اور بیت المقدس کے اور مومن لوگ بیت المقدس میں حاضر ہو جائیں گے، پھر شدید قسم کے زلزلے آئیں گے تو اللہ اسے اور اس کے لشکر کو شکست دیں گے، یہاں تک کہ اگر دیوار کے پیچھے اور درخت کی اوٹ میں کوئی ہو گا تو وہ دیوار اور درخت کہے گا کہ اے مومن! یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے تو اسے قتل کر دے۔“ راوی کا بیان ہے کہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”ہرگز اس طرح نہیں ہو گا، یہاں تک کہ تم ایسے امور کو دیکھو گے کہ ان کی شدت تمہارے دلوں میں بھی بڑھ جائے گی تو تم آپس میں سوال کرو گے کہ کیا تمہارے نبی نے تمہارے لیے کوئی چیز ذکر کی؟ یہاں تک کہ پہاڑ بھی اپنی مقررہ جگہوں سے ہٹ جائیں گے، پھر اس کے بعد موت ہے۔“
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر میں دوسرے خطبہ میں حاضر ہوا تو انہوں نے پھر اس حدیث کو ذکر کیا اور اس میں تقدیم و تاخیر نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخُسُوفِ/حدیث: 6361]
”اس کی آنکھ ایسے ہو گی، جیسے انصار کے بوڑھے ابو یحییٰ کی آنکھ ہے۔ جب وہ نکلے گا تو اس کا گمان ہو گا کہ وہ اللہ ہے۔ جو اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق اور اتباع کی تو اس کے پہلے والے نیک عمل بھی اس کو فائدہ نہیں دیں گے اور جس نے اس کا انکار اور تکذیب کی اس کو اس کے پہلے برے اعمال کی وجہ سے سزا نہ دی جائے گی۔ وہ پوری زمین پر غلبہ پا لے گا سوائے حرم اور بیت المقدس کے اور مومن لوگ بیت المقدس میں حاضر ہو جائیں گے، پھر شدید قسم کے زلزلے آئیں گے تو اللہ اسے اور اس کے لشکر کو شکست دیں گے، یہاں تک کہ اگر دیوار کے پیچھے اور درخت کی اوٹ میں کوئی ہو گا تو وہ دیوار اور درخت کہے گا کہ اے مومن! یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے تو اسے قتل کر دے۔“ راوی کا بیان ہے کہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”ہرگز اس طرح نہیں ہو گا، یہاں تک کہ تم ایسے امور کو دیکھو گے کہ ان کی شدت تمہارے دلوں میں بھی بڑھ جائے گی تو تم آپس میں سوال کرو گے کہ کیا تمہارے نبی نے تمہارے لیے کوئی چیز ذکر کی؟ یہاں تک کہ پہاڑ بھی اپنی مقررہ جگہوں سے ہٹ جائیں گے، پھر اس کے بعد موت ہے۔“
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر میں دوسرے خطبہ میں حاضر ہوا تو انہوں نے پھر اس حدیث کو ذکر کیا اور اس میں تقدیم و تاخیر نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخُسُوفِ/حدیث: 6361]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم 6342»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6362
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ الطَّائِيُّ، ثنا أَبُو جَدِّي عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الْحَفَرِيَّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عِبَادٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ خَطَبَ فَقَالَ:" أَمَّا بَعْدُ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سورج گرہن ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «أَمَّا بَعْدُ» (حمد و ثنا کے بعد)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخُسُوفِ/حدیث: 6362]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ