السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1290. -- باب: الخطبة بعد صلاة الكسوف
-- باب: سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 6360
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَهِيَ تُصَلِّي، فَقُلْتُ: ⦗٤٧١⦘ مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. فَأَطَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِيَامَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ، فَأَخَذْتُ قِرْبَةً مِنْ مَاءٍ إِلَى جَنْبِي فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا، حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا، أَوْ مِثْلَ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ". لَا أَدْرِي أِيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ،" يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ: مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ فَيَقُولُ: هُوَ مُحَمَّدٌ، هُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَيُقَالُ لَهُ: قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِهِ، فَنَمْ صَالِحًا، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي أِيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ." فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُ". قَالَ أَبُو الْفَضْلِ: وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، وہ نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے کہا: ”لوگوں کی کیا حالت ہے کہ وہ (اس طرح) نماز پڑھ رہے ہیں؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سر کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے کہا: ”یہ (کوئی خاص) نشانی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت طویل قیام کیا، یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہوگئی۔ میں نے ایک چھوٹا مشکیزہ اپنے پہلو میں رکھا اور سر پر پانی ڈالنے لگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج روشن ہو چکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: ”جس چیز کا بھی تمہیں وعدہ کیا گیا تھا میں نے اس کو اپنی اس جگہ پر دیکھ لیا، یہاں تک کہ جنت اور جہنم بھی۔ پھر میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں مسیح دجال کے فتنے کی طرح یا اس کے قریب آزمائے جاؤ گے۔“ (اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”تم میں سے ہر ایک کو لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس آدمی کے بارے میں تم کیا جانتے ہو؟ تو مومن اور یقین رکھنے والا کہے گا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اللہ کے رسول ہیں، وہ ہمارے پاس واضح دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے تو ہم نے ان کی بات کو قبول کیا اور ان کی اطاعت کی، ایسا وہ تین بار کہے گا۔ پھر اس مومن سے کہا جائے گا کہ ہم جانتے تھے کہ تو ان پر ایمان رکھتا ہے، تو آرام سے سو جا۔ اور منافق یا شکی آدمی کہے گا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ کون ہیں، میں نے لوگوں سے سنا تھا کہ وہ کچھ کہتے ہیں تو میں نے بھی وہی کہہ دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6360]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6857»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6360 in Urdu