السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1293. -- باب: الدليل على أنه إنما يصلي صلاة الخسوف حتى ينجلي، فإذا انجلى لم يبتدأ بالصلاة
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ گرہن کی نماز صرف اسی وقت تک پڑھی جائے گی جب تک کہ گرہن ختم نہ ہو جائے، پس جب گرہن ختم ہو جائے تو نماز شروع نہ کی جائے
حدیث نمبر: 6371
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عُمَرَ، وَثنا زَائِدَةُ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ زِيَادَةَ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَادْعُوا اللهَ وَصَلُّوا حَتَّى تَنْكَشِفَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" حَتَّى تَنْجَلِيَ"..
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس دن سورج گرہن ہوا جس دن ابراہیم فوت ہوئے۔ لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم ان کو دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ روشن ہوجائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخُسُوفِ/حدیث: 6371]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 996»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6372
وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا: ثنا مُصْعَبُ بْنُ ⦗٤٧٥⦘ الْمِقْدَامِ، ثنا زَائِدَةُ قَالَ: قَالَ زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ: فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ:" حَتَّى تَنْكَشِفَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ. وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَأَبِي بَكَرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ ہیں: «حَتَّىٰ تَنْكَشِفَ» ”یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے“ اور ابو مسعود انصاری اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث کے الفاظ ہیں: «حَتَّىٰ يُكْشَفَ مَا بِكُمْ» ”یہاں تک کہ وہ چیز روشن ہو جائے جو تمہیں لاحق ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخُسُوفِ/حدیث: 6372]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6373
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُسُوفِ الشَّمْسِ كَمَا مَضَى فِي حَدِيثِ بَحْرِ بْنِ نَصْرٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ، قَالَ: وَقَالَ أَيْضًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَصَلُّوا حَتَّى يُفْرَجَ عَنْكُمْ"، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُمْ، حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ، يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَيٍّ، وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ.
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے سورج گرہن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بیان کیا جیسا کہ پہلے بحر بن نصر عن ابن وہب کی حدیث میں گزر چکا ہے، لیکن اس کے آخر میں کچھ الفاظ زائد ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ کیفیت تم سے دور کر دی جائے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنی اس جگہ تمام چیزوں کو دیکھ لیا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، یہاں تک کہ میں نے چاہا کہ میں جنت کا ایک خوشہ پکڑ لوں، تم نے اس وقت مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا اور میں نے دیکھا کہ جہنم کا بعض حصہ بعض کو کھا رہا ہے، جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا اور میں نے اس میں ابن لحی کو دیکھا جس نے سب سے پہلے بتوں کے نام پر جانور چھوڑے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخُسُوفِ/حدیث: 6373]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنی اس جگہ تمام چیزوں کو دیکھ لیا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، یہاں تک کہ میں نے چاہا کہ میں جنت کا ایک خوشہ پکڑ لوں، تم نے اس وقت مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا اور میں نے دیکھا کہ جہنم کا بعض حصہ بعض کو کھا رہا ہے، جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا اور میں نے اس میں ابن لحی کو دیکھا جس نے سب سے پہلے بتوں کے نام پر جانور چھوڑے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخُسُوفِ/حدیث: 6373]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 951»
الحكم على الحديث: صحيح