🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1294. -- باب: الدليل على جواز الابتداء بالخطبة بعد التجلي
-- باب: گرہن ختم ہونے کے بعد خطبہ شروع کرنے کے جواز کی دلیل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6374
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ ابْنُ مِلْحَانَ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ قَامَ فَكَبَّرَ وَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" وَقَامَ كَمَا هُوَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، وَهِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ سَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ:" إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
(٦٣٧٤) عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گرہن کے دن کھڑے ہوئے، پھر تکبیر کہہ کر لمبی قرأت کی، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی حالت میں کھڑے رہے اور لمبی قرأت کی، لیکن یہ پہلی قرأت سے کم تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا رکوع کیا، لیکن وہ پہلے والے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا سجدہ کیا۔ اسی طرح یہ دوسری رکعت میں کیا۔ پھر سلام پھیرا تو سورج روشن ہوچکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں۔ یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب ان کو اس حالت میں دیکھو تو نماز کی طرف جلدی کیا کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخُسُوفِ/حدیث: 6374]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 6303»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں