السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1365. -- باب: ما يستحب من التعجيل بتجهيزه إذا بان موته
-- باب: جب موت واضح ہو جائے تو میت کی تجہیز میں جلدی کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6620
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ أَبُو سُفْيَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَلَوِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ:" إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ بِهِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِي بِهِ حَتَّى أَشْهَدَهُ فَأُصَلِّيَ عَلَيْهِ، وَعَجِّلُوهُ، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَكَذَا قَالَهُ عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ وَقِيلَ عُمَرُ بْنُ زُرَارَةَ، وَرُوِيَ فِي الِاسْتِينَاءِ بِالْغَرِيقِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ فِي الِاسْتِينَاءِ بِالْمَصْعُوقِ، وَكَانَ الشَّافِعِيُّ يَسْتَحِبُّ ذَلِكَ حَتَّى يَتَبَيَّنَ مَوْتُهُ.
سیدنا حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تیمار داری کے لیے تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نہیں دیکھتا طلحہ کو مگر یہ کہ اس پر موت ظاہر ہو چکی ہے۔ سو تم مجھے اس کی اطلاع کرنا تاکہ میں آ کر اس کی نمازِ جنازہ ادا کروں اور اس کے لیے جلدی کرنا کیونکہ کسی بھی مسلمان میت کے لیے یہ جائز نہیں کہ اس کو اس کے اہل میں زیادہ دیر تک رکھا جائے۔“
ڈوبنے والے کے (دفن سے پہلے) انتظار کرنے کے بارے میں ایک مرفوع حدیث روایت کی گئی ہے جس جیسی روایت ثابت نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6620]
ڈوبنے والے کے (دفن سے پہلے) انتظار کرنے کے بارے میں ایک مرفوع حدیث روایت کی گئی ہے جس جیسی روایت ثابت نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6620]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف