🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1364. -- باب: وجوب العمل في الجنائز من الغسل والتكفين والصلاة والدفن حتى يقوم بذلك من فيه الكفاية
-- باب: جنازوں کے معاملات مثلاً غسل، کفن، نماز اور دفن میں عمل کرنے کے وجوب کا بیان یہاں تک کہ اتنے لوگ یہ کام انجام دے لیں جو کافی ہوں (فرضِ کفایہ کا بیان)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6616
قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ".
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنازوں کے پیچھے چلنے (یعنی ان میں شرکت کرنے) کا حکم دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: Q6616]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6616
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ: رَدُّ السَّلَامِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازوں کی اتباع کرنا، دعوت کو قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6616]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6617
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ، فَمَا رَأَيْتُهُ مَرَّ بِجِيفَةِ إِنْسَانٍ إِلَّا أَمَرَ بِدَفْنِهِ، لَا يَسْأَلُ أَمُسْلِمٌ هُوَ أَمْ كَافِرٌ؟"..
عمر بن یعلیٰ بن مرہ اپنے والد سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی مرتبہ سفر کیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی انسان کی میت کے پاس سے گزرے ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دفن کا حکم نہ دیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی نہیں پوچھتے تھے کہ یہ مسلم ہے یا کافر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6617]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ أخرجه الحاكم»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6618
وَقَالَ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، بِإِسْنَادِهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ، يَقُولُ، فَذَكَرَهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ ⦗٥٤٣⦘ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، فَذَكَرَهُ.
عمر بن عبداللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ایسی ہی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6618]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ دار قطني»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6619
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ، ثنا ابْنُ يُونُسَ، ثنا لَيْثٌ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ:" وَجَدَ النَّاسُ وَهُمْ صَادِرُونَ يَعْنِي مِنَ الْحَجِّ امْرَأَةً مَيْتَةً بِالْبَيْدَاءِ، يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَلَا يَرْفَعُونَ لَهَا رَأْسًا، حَتَّى مَرَّ بِهَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ كُلَيْبٌ مِسْكِينٌ فَأَلْقَى عَلَيْهَا ثَوْبَهُ ثُمَّ اسْتَعَانَ عَلَيْهَا مَنْ يَدْفِنُهَا، فَدَعَا عُمَرُ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَهُ، فَقَالَ:" هَلْ مَرَرْتَ بِهَذِهِ الْمَرْأَةِ الْمَيْتَةِ؟ فَقَالَ: لَا، فَقَالَ عُمَرُ: لَوْ حَدَّثْتَنِي أَنَّكُ مَرَرْتَ بِهَا لَ‍نَكَّلْتُ بِكَ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِمْ فِيهَا، وَقَالَ: لَعَلَّ اللهَ يُدْخِلُ كُلَيْبًا الْجَنَّةَ بِفِعْلِهِ بِهَا، فَبَيْنَمَا كُلَيْبٌ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ الْمَسْجِدِ جَاءَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ قَاتِلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَقَرَ بَطْنَهُ، قَالَ نَافِعٌ: وَقَتَلَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ مَعَ عُمَرَ سَبْعَةَ نَفَرٍ". وَرَوَاهُ أَيْضًا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ بِمَعْنَاهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ حج سے آ رہے تھے تو انہوں نے بیداء مقام پر ایک مردہ عورت کو پایا۔ وہ گزرتے گئے اور کسی نے اس کی طرف سر اٹھا کر نہ دیکھا حتیٰ کہ بنو لیث میں سے ایک آدمی گزرا جسے کلیب مسکین کہا جاتا تھا۔ اس نے اس پر کپڑا ڈال دیا۔ پھر انہوں نے مدد کے لیے پکارا جو اسے دفن کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کو بلایا (یعنی اپنے بیٹے کو) تو انہوں نے کہا: ”کیا تو اس مردہ عورت کے پاس سے گزرا ہے؟“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ”نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر مجھے علم ہو گیا کہ تو وہاں سے گزرا ہے تو میں تجھے ضرور سزا دوں گا۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور ان پر بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے: ”شاید کہ اللہ تعالیٰ اسی عمل کی وجہ سے کلیب کو جنت میں داخل کر دے۔“ ایک مرتبہ کلیب مسجد کے پاس وضو کر رہے تھے کہ ان کے پاس ابولؤلؤ آیا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا تو اس نے اس کا پیٹ پھاڑ دیا۔ نافع کہتے ہیں: ابولؤلؤ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سات افراد کو قتل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6619]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن حبان»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں