السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1405. -- باب: ما يستحب من اتساع القبر وإعماقه
-- باب: قبر کو کشادہ اور گہرا کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6751
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جَاءَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُ؟ قَالَ:" احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ" قَالُوا: أَيُّهُمْ يُقَدَّمُ فِي الْقَبْرِ؟ قَالَ:" أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" قَالَ: فَقُدِّمَ أَبِي بَيْنَ يَدَيِ اثْنَيْنِ، أَوْ قَالَ:" وَاحِدٍ"..
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس احد کے دن آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہمیں زخم پہنچے اور مشقت بھی۔ سو آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گہرے اور کشادہ کھودو اور دو اور تین آدمیوں کو ایک قبر میں دفن کرو۔“ انہوں نے کہا: قبر میں پہلے کسے رکھیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔“ وہ کہتے ہیں: میرے باپ کو دو یا ایک آدمی سے مقدم کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6751]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6752
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ يَعْنِي عَبْدَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، فَذَكَرَ إِسْنَادَهُ نَحْوَهُ. قَالَ: أَصَابَ الْأَنْصَارَ يَوْمَ أُحُدٍ قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا؟ قَالَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا". قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَأُرَاهُ قَالَ:" وَأَعْمِقُوا"، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ: بَلْ هُوَ هَكَذَا.
سلیمان بن مغیرہ کہتے ہیں: غزوۂ احد میں انصار کو زخم بھی پہنچے اور مشقت بھی کرنی پڑی۔ انصاریوں نے یہ بات پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کی اور کہا کہ آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کشادہ بناؤ۔“ عبداللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں گہری کرو۔“ پھر عبداللہ نے کہا: بلکہ وہ بات ایسے ہی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6752]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6753
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلَى أُحُدٍ:" أَعْمِقُوا، وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ".
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے مقتولین کے متعلق فرمایا: ”ان کی قبروں کو گہرا اور اچھی طرح کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین کو دفن کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6753]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6754
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: اشْتَدَّ الْجِرَاحُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَشُكِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا فِي الْقَبْرِ الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرٌ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ.
سعد بن ہشام بن عامر اپنے والد (ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ غزوہِ احد میں سخت زخم آئے تو اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کشادہ کرو اور خوب بناؤ اور ایک قبر میں دو تین کو دفن کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6754]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6755
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ وَأَنَا ⦗٥٨١⦘ غُلَامٌ مَعَ أَبِي، فَجَلَسَ عَلَى حُفْرَةِ الْقَبْرِ، وَجَعَلَ يَوْمِئُ إِلَى الْحَفَّارِ وَيَقُولُ:" أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ الرَّأْسِ، أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ الرِّجْلَيْنِ، وَرُبَّ عِذْقٍ لَهُ فِي الْجَنَّةِ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي حَازِمٍ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ قَالَ:" فَرَأَيْتُهُ عَلَى حَفِيرَةِ الْقَبْرِ جَالِسًا" فَقَالَ:" أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، فَرُبَّ عِذْقٍ لَهُ فِي الْجَنَّةِ".
عاصم بن کلیب اپنے باپ سے اور وہ انصار کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے اور میں بچہ تھا جو اپنے باپ کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے گڑھے پر بیٹھ گئے اور گڑھا کھودنے والوں سے کہہ رہے تھے: ”سر کی طرف سے کشادہ کرو۔ پاؤں کی طرف سے کشادہ کرو، اس کے لیے جنت میں بہت سے خوشے ہوں گے۔“
ابو عبداللہ کی ایک روایت میں ہے کہ میں نے آپ کو قبر کے گڑھے پر بیٹھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے سر کی جانب سے فراخ کرو، اس کے لیے جنت میں بہت سے خوشے ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6755]
ابو عبداللہ کی ایک روایت میں ہے کہ میں نے آپ کو قبر کے گڑھے پر بیٹھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے سر کی جانب سے فراخ کرو، اس کے لیے جنت میں بہت سے خوشے ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6755]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح