🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1425. -- باب: الصلاة على من قتل نفسه غير مستحل لقتلها
-- باب: اس شخص پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان جس نے خودکشی کو حلال سمجھے بغیر اپنی جان لی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6832
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو رَوْقٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ بِالْبَصْرَةِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلُّوا خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَصَلُّوا عَلَى كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَجَاهِدُوا مَعَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ" قَالَ عَلِيٌّ: مَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمَنْ دُونَهُ ثِقَاتٌ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِيَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَالصَّلَاةِ عَلَى مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَحَادِيثُ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ غَايَةَ الضَّعْفِ، وَأَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِرْسَالًا كَمَا ذَكَرَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي:.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نماز پڑھو ہر نیک اور بد کے پیچھے اور ہر بد اور نیک کا جنازہ ادا کرو اور ہر نیک و بد کے ساتھ جہاد کرو۔“
علی (دارقطنی) کہتے ہیں: مکحول نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا اور ان سے نیچے والے راوی ثقہ ہیں۔ شیخ کہتے ہیں کہ ہر نیک و فاجر کی نماز جنازہ اور ہر اس شخص کی نماز جنازہ کے بارے میں جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہا، کئی احادیث مروی ہیں جو سب انتہائی ضعیف ہیں اور اس باب میں سب سے صحیح روایت مکحول کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے جسے ابو داؤد نے کتاب السنن میں روایت کیا ہے، مگر اس میں ارسال ہے جیسا کہ دارقطنی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6832]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ معني تخريجه بالجزء الفط»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6833
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَا: ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهَ بِمَشَاقِصَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَوْنِ بْنِ سَلَّامٍ، وَفِي حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ قَالَ: مَرِضَ رَجُلٌ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ مَاتَ، قَالَ:" مَا يُدْرِيكَ"، قَالَ: إِنَّهُ صِيحَ عَلَيْهِ، قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ"، ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ، فَرَآهُ قَدْ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ مَاتَ، فَقَالَ:" مَا يُدْرِيكَ"، قَالَ رَأَيْتُهُ نَحَرَ نَفْسَهَ بِمَشَاقِصَ، قَالَ:" إِذًا لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَوْنِ بْنِ سَلَّامٍ مُخْتَصَرًا، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيِّ أَنَّهُ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِيُحَذِّرَ النَّاسَ بِتَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَلَا يَرْتَكِبُوا كَمَا ارْتَكَبَ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسے شخص کو لایا گیا جس نے اپنے کو تیر کے ساتھ قتل کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔
احمد بن یونس ایک حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی بیمار ہو گیا اور لوگ اس پر چیخے، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: وہ شخص (مریض) فوت ہو گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کیسے علم ہوا؟“ اس نے کہا: اس پر چیخ و پکار کی گئی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ فوت نہیں ہوا۔“ پھر وہ آدمی چلا گیا تاکہ وہ دیکھے، تو اس نے دیکھا کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ ذبح کر لیا ہے۔ پھر وہ چلا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے کہ وہ فوت ہو چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیسے علم ہوا؟“ تو اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ قتل کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو میں اس کا جنازہ نہیں پڑھوں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6833]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں