السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1425. -- باب: الصلاة على من قتل نفسه غير مستحل لقتلها
-- باب: اس شخص پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان جس نے خودکشی کو حلال سمجھے بغیر اپنی جان لی ہو
حدیث نمبر: 6833
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَا: ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهَ بِمَشَاقِصَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَوْنِ بْنِ سَلَّامٍ، وَفِي حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ قَالَ: مَرِضَ رَجُلٌ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ مَاتَ، قَالَ:" مَا يُدْرِيكَ"، قَالَ: إِنَّهُ صِيحَ عَلَيْهِ، قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ"، ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ، فَرَآهُ قَدْ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ مَاتَ، فَقَالَ:" مَا يُدْرِيكَ"، قَالَ رَأَيْتُهُ نَحَرَ نَفْسَهَ بِمَشَاقِصَ، قَالَ:" إِذًا لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَوْنِ بْنِ سَلَّامٍ مُخْتَصَرًا، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيِّ أَنَّهُ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِيُحَذِّرَ النَّاسَ بِتَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَلَا يَرْتَكِبُوا كَمَا ارْتَكَبَ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسے شخص کو لایا گیا جس نے اپنے کو تیر کے ساتھ قتل کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔
احمد بن یونس ایک حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی بیمار ہو گیا اور لوگ اس پر چیخے، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: وہ شخص (مریض) فوت ہو گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کیسے علم ہوا؟“ اس نے کہا: اس پر چیخ و پکار کی گئی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ فوت نہیں ہوا۔“ پھر وہ آدمی چلا گیا تاکہ وہ دیکھے، تو اس نے دیکھا کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ ذبح کر لیا ہے۔ پھر وہ چلا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے کہ وہ فوت ہو چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیسے علم ہوا؟“ تو اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ قتل کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو میں اس کا جنازہ نہیں پڑھوں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6833]
احمد بن یونس ایک حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی بیمار ہو گیا اور لوگ اس پر چیخے، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: وہ شخص (مریض) فوت ہو گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کیسے علم ہوا؟“ اس نے کہا: اس پر چیخ و پکار کی گئی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ فوت نہیں ہوا۔“ پھر وہ آدمی چلا گیا تاکہ وہ دیکھے، تو اس نے دیکھا کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ ذبح کر لیا ہے۔ پھر وہ چلا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے کہ وہ فوت ہو چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیسے علم ہوا؟“ تو اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ قتل کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو میں اس کا جنازہ نہیں پڑھوں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6833]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6833 in Urdu