السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1432. -- باب: المشي أمام الجنازة
-- باب: جنازے کے آگے چلنے کا بیان
حدیث نمبر: 6857
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنِ الشَّرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ح ⦗٣٦⦘ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ".
سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ سب جنازے کے آگے چلے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6857]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ترمذي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6858
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَامِرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ" فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّ مَعْمَرًا، وَابْنَ جُرَيْجٍ يُخَالِفَانِكَ فِي هَذَا، يَعْنِي أَنَّهُمَا يُرْسِلَانِ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اسْتَقَرَّ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِيهِ سَمِعْتُهُ مِنْ فِيهِ يُعِيدُهُ وَيُبْدِيهِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّ مَعْمَرًا، وَابْنَ جُرَيْجٍ يَقُولَانِ فِيهِ، وَعُثْمَانُ، قَالَ: فَصَدَّقَهُمَا، فَقَالَ لَعَلَّهُ قَدْ قَالَهُ هُوَ وَلَمْ أَكْتُبْهُ لِذَلِكَ إِنِّي كُنْتُ أَمِيلُ إِذْ ذَاكَ إِلَى الشِّيعَةِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَى ابْنِ جُرَيْجٍ، وَمَعْمَرٍ فِي وَصْلِ الْحَدِيثِ فَرُوِيَ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْحَدِيثُ مَوْصُولًا، وَرُوِيَ مُرْسَلًا، وَقَدْ قِيلَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سالم رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جنازے کے آگے چلتے تھے تو میں ان کی طرف کھڑا ہوا اور کہا: اے ابو محمد! بیشک معمر رحمہ اللہ اور ابن جریج رحمہ اللہ اس میں تیری مخالفت کرتے ہیں کہ وہ حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بیان کرتے ہیں تو انہوں نے فرمایا: زہری رحمہ اللہ نے اسے برقرار رکھا اور میں نے ان کے منہ سے سنا کہ وہ اس کا اعادہ کرتے اور سالم رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے والد سے۔ میں نے ان سے کہا: اے ابو محمد! معمر رحمہ اللہ اور ابن جریج رحمہ اللہ دونوں اس میں ”اور عثمان“ بھی بیان کرتے ہیں، تو انہوں نے ان دونوں کی تصدیق کی اور کہا: شاید انہوں نے کہا ہو اور میں نے درج نہ کیا ہو، کیونکہ تب میں شیعہ کی طرف میلان رکھتا تھا۔
شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: ابن جریج اور معمر پر اس حدیث کے موصول ہونے میں اختلاف کیا گیا ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک سے یہ حدیث موصول بھی روایت کی گئی ہے اور مرسل بھی، اور ابن جریج سے زیاد بن سعد کے واسطے سے زہری سے بھی کہا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6858]
شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: ابن جریج اور معمر پر اس حدیث کے موصول ہونے میں اختلاف کیا گیا ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک سے یہ حدیث موصول بھی روایت کی گئی ہے اور مرسل بھی، اور ابن جریج سے زیاد بن سعد کے واسطے سے زہری سے بھی کہا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6858]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ترمذي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6859
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو ذَرٍّ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَفَدَةُ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرِ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابَجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَمَنْصُورٌ، وَزِيَادٌ، وَبَكْرٌ، كُلُّهُمْ ذَكَرَ أَنَّهُ: سَمِعَ مِنَ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ: يَمْشُونَ بَيْنَ يَدَيِ الْجِنَازَةِ غَيْرَ أَنَّ بَكْرًا لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانَ تَفَرَّدَ بِهِ هَمَّامُ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى عَقِيلٍ، وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، فَقِيلَ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، مَوْصُولًا وَقِيلَ مُرْسَلًا وَمَنْ وَصَلَهُ وَاسْتَقَرَّ عَلَى وَصْلِهِ، وَلَمْ يُخْتَلَفْ عَلَيْهِ فِيهِ وَهُوَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حُجَّةٌ ثِقَةٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سالم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جنازے کے آگے چل رہے تھے۔
البتہ بکر نے عثمان کا تذکرہ نہیں کیا، اس کو صرف ہمام نے بیان کیا ہے اور وہ ثقہ ہیں، اور اس میں عقیل اور یونس بن یزید کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک سے زہری کے واسطے سے موصول بھی کہا گیا ہے اور مرسل بھی، اور جس نے اسے موصول بیان کیا اور اس کے موصول ہونے پر قائم رہا اور اس پر اس میں کوئی اختلاف نہیں کیا گیا، وہ سفیان بن عیینہ ہیں جو حجت اور ثقہ ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6859]
البتہ بکر نے عثمان کا تذکرہ نہیں کیا، اس کو صرف ہمام نے بیان کیا ہے اور وہ ثقہ ہیں، اور اس میں عقیل اور یونس بن یزید کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک سے زہری کے واسطے سے موصول بھی کہا گیا ہے اور مرسل بھی، اور جس نے اسے موصول بیان کیا اور اس کے موصول ہونے پر قائم رہا اور اس پر اس میں کوئی اختلاف نہیں کیا گیا، وہ سفیان بن عیینہ ہیں جو حجت اور ثقہ ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6859]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ نسائي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6860
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهُدَيْرِ: أَنَّهُ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقَدِّمُ النَّاسَ أَمَامَ جِنَازَةِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے جنازے کے آگے کر رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6860]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6861
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ.
ابوحازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ جنازے کے آگے چل رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6861]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيبه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6862
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي حَازِمٍ: هَلْ حَفِظْتَ جِنَازَةً مَشَى مَعَهَا قَوْمٌ مِنَ الْفُقَهَاءِ أَمَامَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، وَحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، وَابْنَ الزُّبَيْرِ يَمْشُونَ أَمَامَهَا حَتَّى وُضِعَتْ.
سعد بن طارق اشجعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابو حازم رحمہ اللہ سے کہا: کیا آپ کو کوئی واقعہ یاد ہے کہ جنازے کے ساتھ فقہاء اور ائمہ نے شمولیت کی ہو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اس کے آگے چل رہے تھے حتیٰ کہ اسے رکھ دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6862]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6863
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُبَيْدٍ، مَوْلَى السَّائِبِ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَعُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ فَتَقَدَّمَا فَجَلَسَا يَتَحَدَّثَانِ فَلَمَّا حَاذَتْ بِهِمَا قَامَا.
سائب رضی اللہ عنہ کے غلام عبید فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما اور عبید بن عمیر کو دیکھا کہ وہ دونوں جنازے کے آگے چل رہے تھے، پھر وہ آگے بڑھ کر بیٹھ گئے اور گفتگو کرنے لگے، جب وہ ان کے قریب آیا تو کھڑے ہوگئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6863]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخره الشافعي»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6864
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ: أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، وَأَبَا أَسِيدٍ السَّاعِدِيَّ، وَأَبَا قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ.
ابن ابی ذئب، توامہ کے غلام صالح سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6864]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6865
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ ⦗٣٨⦘ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ:" أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَرَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ".
زیاد بن قیس اشعری فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم مہاجرین و انصار کو دیکھا کہ وہ جنازے کے آگے چلتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6865]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف