🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1433. -- باب: المشي خلفها
-- باب: جنازے کے پیچھے چلنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6866
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: أَرَاهُ قَدْ رَفَعَهُ شَكُّ قَبِيصَةَ قَالَ:" الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ وَالْمَاشِي يَمْشِي خَلْفَهَا وَأَمَامَهَا، وَعَنْ يَسَارِهَا وَمَيَامِنِهَا، وَالسَّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِأَبَوَيْهِ بِالْعَافِيَةِ وَالرَّحْمَةِ".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ قبیصہ نے اپنا شک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے گا اور پیدل چلنے والے ان کے پیچھے، آگے اور دائیں بائیں چلیں گے اور ادھورے بچے کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی مگر اس کے والدین کے لیے عافیت و رحمت کی دعا کی جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6866]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6867
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذُيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ أَبُو غَسَّانَ، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَحْيَى الْجَابِرِ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ، فَقَالَ:" السَّيْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ إِنْ يَكُ خَيْرًا يُعَجَّلْ إِلَيْهِ وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ، وَلَا تَتْبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ يَقْدَمُهَا"، أَبُو مَاجِدٍ مَجْهُولٌ، وَيَحْيَى الْجَابِرُ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ النَّقْلِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ چلنا دوڑنے کے بغیر ہوگا۔ اگر وہ نیک ہے تو اسے جلد پہنچایا جائے گا اور اگر اس کے علاوہ ہے تو پھر جہنمیوں کے لیے دوری ہو، جنازے کی اتباع کی جاتی ہے، اسے پیچھے نہیں چلایا جاتا، اس کے ساتھ کوئی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اس کے آگے چلے۔“
ابو ماجد مجہول ہے اور یحییٰ الجابر کو محدثین کی ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6867]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن حبان»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6868
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ زَائِدَةَ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَمْشِي خَلْفَهَا، فَقِيلَ: لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّهُمَا يَمْشِيَانِ أَمَامَهَا، فَقَالَ:" إِنَّهُمَا يَعْلَمَانِ أَنَّ الْمَشْيَ خَلْفَهَا أَفْضَلُ مِنَ الْمَشْيِ أَمَامَهَا كَفَضْلِ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ عَلَى صَلَاتِهِ فَذًّا وَلَكِنَّهُمَا سَهْلَانِ يَسْهُلَانِ لِلنَّاسِ" ⦗٣٩⦘ زَائِدَةُ هَذَا هُوَ ابْنُ خِرَاشٍ، وَقِيلَ ابْنُ أَوْسِ بْنِ خِرَاشٍ الْكِنْدِيُّ يَرْوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى هَذَا الْحَدِيثَ، وَالْآثَارُ فِي الْمَشْيِ أَمَامَهَا أَصَحُّ وَأَكْثَرُ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے بیٹے اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما جنازے کے آگے چلا کرتے تھے اور علی رضی اللہ عنہ پیچھے چلا کرتے تھے، تو علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: وہ دونوں (صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما) جنازے کے آگے چلتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: وہ جانتے ہیں کہ پیچھے چلنا آگے چلنے سے افضل ہے جیسے باجماعت نماز اکیلے کی نماز سے افضل ہے، لیکن وہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں۔
یہ زائدہ، ابن خراش ہیں، اور کہا گیا ہے کہ ابن اوس بن خراش کندی ہیں، جو یہ حدیث سعید بن عبدالرحمن بن ابزی سے روایت کرتے ہیں، اور جنازے کے آگے چلنے کے بارے میں آثار زیادہ صحیح اور زیادہ ہیں، وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6868]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں