🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1434. -- باب: القيام للجنازة
-- باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6879
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ لِجِنَازَةٍ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے لیے کھڑے ہوئے جو آپ کے پاس سے گزرا، حتیٰ کہ وہ چھپ گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6879]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6880
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ لِجِنَازَةِ يَهُودِيٍّ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى تَوَارَتْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ایک یہودی کے جنازے کے لیے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ وہ چھپ گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6880]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6881
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى يَقُولُ: كَانَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمَرُّوا عَلَيْهِمَا بِجِنَازَةٍ فَقَامَا، فَقِيلَ لَهُمَا: هُوَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ أَوْ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ، فَقَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ، فَقَالَ:" أَلَيْسَتْ نَفْسًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ گزرا تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے، ان سے کہا گیا کہ وہ اس سرزمین کے باشندوں یعنی ذمیوں میں سے ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ جنازہ یہودی کا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ انسان نہیں؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6881]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6882
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ: تَمُرُّ بِنَا جِنَازَةُ الْكَافِرِ فَنَقُومُ لَهَا، قَالَ:" نَعَمْ قُومُوا لَهَا فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَقُومُونَ لَهَا إِنَّمَا تَقُومُونَ إِعْظَامًا لِلَّذِي يَقْبِضُ النُّفُوسَ" وَرُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّمَا قُمْتُ لِلْمَلَكِ"، وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ" وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس سے کافر کا جنازہ گزرتا ہے تو کیا ہم کھڑے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اس کے لیے کھڑے ہو جاؤ اور تم اس کے لیے نہیں کھڑے ہو رہے بلکہ تم اس کی عظمت کے لیے کھڑے ہو جو روحوں کو قبض کرتا ہے۔“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو فرشتے کی وجہ سے کھڑا ہوا ہوں۔“ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: ”لیکن ہم ان فرشتوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں جو اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6882]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ احمد»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6883
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ⦗٤٣⦘ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ:" مَشَيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَمَامَ الْجِنَازَةِ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَقْبَرَةِ، فَقَامُوا حَتَّى وُضِعَتْ، ثُمَّ جَلَسُوا فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ، فَقَالَ: إِنَّ الْقَائِمَ مِثْلُ الْحَامِلِ".
ابو حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ جنازے کے آگے چلا، یہاں تک کہ ہم قبرستان پہنچے تو وہ کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ اسے رکھا گیا، پھر وہ بیٹھ گئے تو میں نے ان میں سے ایک سے کہا، تو انہوں نے کہا: ”کھڑا رہنے والا اٹھانے والے کی مثل ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6883]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو اسحاق»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں