🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1453. -- باب: ما يستدل به على أن أكثر الصحابة اجتمعوا على أربع ورأى بعضهم الزيادة منسوخة
-- باب: اس بات کے دلائل کا بیان کہ اکثر صحابہ کرام چار تکبیروں پر متفق ہو گئے تھے اور ان میں سے بعض نے اس پر اضافے کو منسوخ سمجھا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6946
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ أَرْبَعًا وَخَمْسًا فَاجْتَمَعْنَا عَلَى أَرْبَعٍ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجِنَازَةِ".
عمرو بن مرہ فرماتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے سنا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”تمام تکبیرات کہی جاتی تھیں، چار بھی، پانچ بھی۔ پھر ہم نے جنازے کے لیے چار پر اجماع کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6946]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ماجه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6947
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَقِيقٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ:" كَانُوا يُكَبِّرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعًا وَخَمْسًا وَسِتًّا"، أَوْ قَالَ:" أَرْبَعًا"، فَجَمَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَ كُلُّ رَجُلٍ بِمَا رَأَى، فَجَمَعَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى أَرْبَعِ تَكْبِيرَاتٍ كَأَطْوَلِ الصَّلَاةِ" ⦗٦١⦘ وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، فَقَالَ: أَرْبَعًا مَكَانَ سِتًّا. وَفِيمَا رَوَى وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ إِيَاسٍ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ فَأَجْمَعُوا أَنَّ التَّكْبِيرَ عَلَى الْجِنَازَةِ أَرْبَعٌ.
ابو وائل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سات، پانچ، چھ تکبیرات کہی جاتی تھیں یا فرمایا: چار، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو جمع کر دیا اور ہر شخص نے وہ خبر دی جو اس نے دیکھا، یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں چار تکبیرات پر جمع کر دیا لمبی نماز کی طرح۔
وکیع نے سفیان سے روایت کیا ہے کہ چھ کی بجائے چار تکبیرات ہیں اور جو وکیع نے مسعر سے بیان کیا ہے، وہ عبدالملک بن ایاس شیبانی وہ ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں اجماع کیا اور اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ جنازے پر چار تکبیرات ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6947]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه عبد الرزاق»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6948
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ أَبُو مُكْرَمٍ الْهِلَالِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" آخِرُ جِنَازَةٍ صَلَّى عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا" تَفَرَّدَ بِهِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُمَرَ الْخَزَّازُ عَنْ عِكْرِمَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا اللَّفْظُ مِنْ وُجُوهٍ أُخَرَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ إِلَّا أَنَّ اجْتِمَاعَ أَكْثَرِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عَلَى الْأَرْبَعِ كَالدَّلِيلِ عَلَى ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آخری جنازہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا، اس میں چار تکبیرات کہیں۔
اسے عکرمہ سے نقل کرنے میں نضر بن عبد الرحمن ابو عمر خزاز منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ الفاظ دوسری سندوں سے بھی مروی ہیں جو سب ضعیف ہیں، البتہ اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم کا چار تکبیرات پر جمع ہونا اس کی دلیل کی طرح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6948]
تخریج الحدیث: «باطل۔ أخرجه الطبراني»

الحكم على الحديث: باطل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6949
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيَّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُدْخِلُهَا قَبْرَهَا، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْجِبُهُ أَنْ يُدْخِلَهَا قَبْرَهَا، فَأَرْسَلْنَ إِلَيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ: يُدْخِلُهَا قَبْرَهَا مَنْ كَانَ يَرَاهَا فِي حَيَاتِهَا قَالَ: صَدَقْنَ".
عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کا جنازہ پڑھا تو انہوں نے چار تکبیرات پڑھیں، پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی طرف پیغام بھیجا کہ انہیں قبر میں داخل کون کرے گا؟ اور عمر رضی اللہ عنہ پسند کرتے تھے کہ وہ انہیں قبر میں داخل کریں، سو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ جس نے انہیں زندہ حالت میں دیکھا ہے وہ قبر میں داخل کرے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے سچ کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6949]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6950
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَبِي يَحْيَى النَّخَعِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى ابْنِ الْمُكَفَّفِ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَى قَبْرَهَ، فَقَالَ:" اللهُمَّ عَبْدُكَ وَوَلَدُ عَبْدِكَ نَزَلَ بِكَ وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْزُولٍ بِهِ، اللهُمَّ وَسِّعْ لَهُ مُدْخَلَهُ، وَاغْفِرْ لَهُ ذَنْبَهُ فَإِنَّا لَا نَعْلَمُ بِهِ إِلَّا خَيْرًا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ".
عمیر بن سعید فرماتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے ابن مکفف کا جنازہ پڑھا اور انہوں نے چار تکبیرات کہیں، پھر اس کی قبر پر آئے اور کہا: «اَللّٰهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ، نَزَلَ بِكَ وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْزُولٍ بِهِ، اَللّٰهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَاغْفِرْ لَهُ ذَنْبَهُ، فَإِنَّا لَا نَعْلَمُ مِنْهُ إِلَّا خَيْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیرے بندے کا بیٹا ہے، تیرا مہمان بنا ہے اور تو بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہے۔ اے اللہ! اس کی قبر کو کشادہ کر اور اس کے گناہ معاف کر، ہم نہیں جانتے اس کی طرف مگر نیکی ہی اور تو زیادہ جانتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6950]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن جعد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6951
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَلَى أُمِّهِ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى أُمِّهِ أَرْبَعًا وَمَا حَسَدَهَا خَيْرًا.
ثابت بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی والدہ کا جنازہ پڑھا، انہوں نے اس پر چار تکبیرات کہیں۔ امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی والدہ پر چار تکبیرات کہیں اور ان کے لیے کسی بھلائی میں بخل نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6951]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6952
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا رَزِينُ بَيَّاعُ الرُّمَّانِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: صَلَّى ابْنُ عُمَرَ عَلَى زَيْدِ بْنِ عُمَرَ، وَأُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عَلِيٍّ، فَجَعَلَ الرَّجُلَ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ، وَالْمَرْأَةَ مِنْ خَلْفِهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِمَا أَرْبَعًا وَخَلْفَهُ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَمِمَّنْ رُوِّينَا عَنْهُ مِنَ الصَّحَابَةِ أَنَّهُ كَبَّرَ أَرْبَعًا، عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ.
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے زید بن عمر اور اس کی ماں ام کلثوم بنت علی کا جنازہ پڑھا تو آدمی کو امام کے قریب رکھا اور عورت کو اس کے پیچھے اور ان پر چار تکبیرات کہیں اور ان کے پیچھے ابن حنفیہ رحمہ اللہ، حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی تھے۔
اور صحابہ سے منقول ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، براء بن عازب رضی اللہ عنہما، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بھی چار تکبیرات کہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6952]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں