السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1453. -- باب: ما يستدل به على أن أكثر الصحابة اجتمعوا على أربع ورأى بعضهم الزيادة منسوخة
-- باب: اس بات کے دلائل کا بیان کہ اکثر صحابہ کرام چار تکبیروں پر متفق ہو گئے تھے اور ان میں سے بعض نے اس پر اضافے کو منسوخ سمجھا ہے
حدیث نمبر: 6947
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَقِيقٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ:" كَانُوا يُكَبِّرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعًا وَخَمْسًا وَسِتًّا"، أَوْ قَالَ:" أَرْبَعًا"، فَجَمَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَ كُلُّ رَجُلٍ بِمَا رَأَى، فَجَمَعَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى أَرْبَعِ تَكْبِيرَاتٍ كَأَطْوَلِ الصَّلَاةِ" ⦗٦١⦘ وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، فَقَالَ: أَرْبَعًا مَكَانَ سِتًّا. وَفِيمَا رَوَى وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ إِيَاسٍ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ فَأَجْمَعُوا أَنَّ التَّكْبِيرَ عَلَى الْجِنَازَةِ أَرْبَعٌ.
ابو وائل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سات، پانچ، چھ تکبیرات کہی جاتی تھیں یا فرمایا: چار، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو جمع کر دیا اور ہر شخص نے وہ خبر دی جو اس نے دیکھا، یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں چار تکبیرات پر جمع کر دیا لمبی نماز کی طرح۔
وکیع نے سفیان سے روایت کیا ہے کہ چھ کی بجائے چار تکبیرات ہیں اور جو وکیع نے مسعر سے بیان کیا ہے، وہ عبدالملک بن ایاس شیبانی وہ ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں اجماع کیا اور اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ جنازے پر چار تکبیرات ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6947]
وکیع نے سفیان سے روایت کیا ہے کہ چھ کی بجائے چار تکبیرات ہیں اور جو وکیع نے مسعر سے بیان کیا ہے، وہ عبدالملک بن ایاس شیبانی وہ ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں اجماع کیا اور اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ جنازے پر چار تکبیرات ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6947]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6947 in Urdu