السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1457. -- باب: الدعاء في صلاة الجنازة
-- باب: نماز جنازہ میں دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6974
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَاءٍ، عَنْ هَمَّامٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ قَالَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" اللهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا، وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا، وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا، وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا، وَأُنْثَانَا"، قَالَ: وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ مَعَ هَذَا الْكَلَامِ" مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ".
سیدنا عبداللہ بن ابو قتادہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے، فرماتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ” «اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَشَاہِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا وَذَکَرِنَا وَأُنْثَانَا» ”اے اللہ! ہمارے زندوں اور ہمارے فوت شدگان کی، ہمارے موجود اور ہمارے غائب لوگوں کی، ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں کی، اور ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں کی مغفرت فرما۔“”اور ابوسلمہ رحمہ اللہ نے اس کلام کے ساتھ اضافہ کیا ہے: ” «وَمَنْ أَحْيَيْتَهٗ مِنَّا فَأَحْيِهٖ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهٗ مِنَّا فَتَوَفَّهٗ عَلَى الْإِيْمَانِ» ”اور ہم میں سے تو جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے تو موت دے اسے ایمان پر موت عطا فرما۔“” [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6974]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أحمد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6975
وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلُوسَا الْأَسَدَابَاذِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَاسِيٍّ الْبَزَّازُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، أنبأ أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. وَقَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْبَابِ فَقُلْتُ: أِيُّ الرِّوَايَاتِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَصَحُّ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ؟ فَقَالَ: أَصَحُّ شَيْءٍ فِيهِ حَدِيثُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْأَشْهَلِيِّ عَنْ أَبِيهِ، وَلِوَالِدِهِ صُحْبَةٌ وَلَمْ يُعْرَفِ اسْمُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: قُلْتُ لَهُ: فَالَّذِي يُقَالُ هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ فَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ هُوَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ هُوَ سَلْمِيٌّ وَهَذَا أَشْهَلِيٌّ قَالَ مُحَمَّدٌ: وَحَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَأَبِي قَتَادَةَ فِي هَذَا الْبَابِ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَأَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے اور پوری حدیث بیان کی۔
ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد یعنی امام بخاری رحمہ اللہ سے اس باب کے بارے میں پوچھا کہ نمازِ جنازہ کے بارے میں یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی روایات میں سے کون سی زیادہ صحیح ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اس میں سب سے زیادہ صحیح ابو ابراہیم اشہلی کی اپنے والد سے روایت ہے، ان کے والد کو صحبت حاصل ہے اور ابو ابراہیم کا نام معلوم نہیں۔ میں نے ان سے کہا: کہا جاتا ہے کہ وہ عبداللہ بن ابی قتادہ ہیں؟ تو انہوں نے اس کا انکار کیا کہ وہ عبداللہ بن ابی قتادہ ہوں اور فرمایا: ابو قتادہ سلمی ہیں اور یہ اشہلی ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: اس باب میں ابو سلمہ کی سیدنا ابوہریرہ، سیدہ عائشہ اور سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہم سے روایت محفوظ نہیں ہے اور اس باب میں سب سے زیادہ صحیح سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6975]
ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد یعنی امام بخاری رحمہ اللہ سے اس باب کے بارے میں پوچھا کہ نمازِ جنازہ کے بارے میں یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی روایات میں سے کون سی زیادہ صحیح ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اس میں سب سے زیادہ صحیح ابو ابراہیم اشہلی کی اپنے والد سے روایت ہے، ان کے والد کو صحبت حاصل ہے اور ابو ابراہیم کا نام معلوم نہیں۔ میں نے ان سے کہا: کہا جاتا ہے کہ وہ عبداللہ بن ابی قتادہ ہیں؟ تو انہوں نے اس کا انکار کیا کہ وہ عبداللہ بن ابی قتادہ ہوں اور فرمایا: ابو قتادہ سلمی ہیں اور یہ اشہلی ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: اس باب میں ابو سلمہ کی سیدنا ابوہریرہ، سیدہ عائشہ اور سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہم سے روایت محفوظ نہیں ہے اور اس باب میں سب سے زیادہ صحیح سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6975]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6976
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَسْتِيُّ الْقَاضِي وَقَدِمَ عَلَيْنَا بِنَيْسَابُورَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْبَكْرِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ سَيَّارٍ أَبُو الْجُلَاسِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَمَّاخٍ، قَالَ: شَهِدْتُ مَرْوَانَ، يَسْأَلُ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ؟ قَالَ: يَقُولُ:" اللهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا، وَعَلَانِيَتِهَا جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا" خَالَفَهُ شُعْبَةُ فِي إِسْنَادِهِ، وَرِوَايَةُ عَبْدِ الْوَارِثِ أَصَحُّ،.
علی بن شماخ بیان کرتے ہیں: میں مروان کے پاس تھا، اس نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کی کون سی دعا سنی تھی؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے: ” «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا» ”اے اللہ! تو ہی اس کا رب ہے، تو ہی نے اسے پیدا کیا، تو ہی نے اسے اسلام کی ہدایت دی، تو ہی نے اس کی روح قبض کی، پس تو ہی اس کے پوشیدہ اور ظاہر کو بہتر جانتا ہے، ہم سفارشی بن کر آئے ہیں، پس تو اسے بخش دے۔“”
شعبہ نے اس کی سند میں ان کی مخالفت کی ہے اور عبد الوارث کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6976]
شعبہ نے اس کی سند میں ان کی مخالفت کی ہے اور عبد الوارث کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6976]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6977
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ جُلَاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ شَمَّاسٍ، ثنا بَعَثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ إِلَى الْمَدِينَةِ وَكُنْتُ مَعَ مَرْوَانَ، فَمَرَّ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ: بَعْضَ حَدِيثِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَمَضَى ثُمَّ أَقْبَلَ، فَقُلْنَا: الْآنَ يَقَعُ بِهِ، فَقَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ فَقَالَ" أَنْتَ خَلَقْتَهَا أَوْ خَلَقْتَهُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" تَعْلَمُ سِرَّهَا وَعَلَانِيَتَهَا". وَأَعْضَلَهُ أَبُو بَلْجٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ،.
عثمان بن شماس فرماتے ہیں: مجھے سعید بن عاص نے مدینہ کی طرف بھیجا، میں مروان کے ساتھ تھا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پاس سے گزرے تو اس نے کہا: اے ابوہریرہ! آپ کچھ احادیث سنائیں، پھر وہ چلا گیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہماری طرف متوجہ ہوئے، ہم نے کہا: اب یہ ان پر برس پڑے گا۔ پھر اس نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسے سنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میت پر دعا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: ” «أَنْتَ خَلَقْتَهَا أَوْ خَلَقْتَهُ» “ پھر ایسی ہی دعا بیان کی سوائے اس کے کہ انہوں نے فرمایا: «تَعْلَمُ سِرَّهَا وَعَلَانِيَتَهَا» ۔
ابو بلج یحییٰ بن ابی سلیم نے اسے معضل بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6977]
ابو بلج یحییٰ بن ابی سلیم نے اسے معضل بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6977]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6978
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا زَائِدَةُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْجُلَاسَ يُحَدِّثُ قَالَ: سَأَلَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ⦗٦٩⦘ وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
یحییٰ بن ابو سلیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے جلاس سے سنا کہ مروان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (جنازے کی دعا کو) کیسے سنا؟
اور صحیح عبد الوارث بن سعید کی روایت ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6978]
اور صحیح عبد الوارث بن سعید کی روایت ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6978]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6979
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ سَيَّارٍ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَامَ عَلَيْهِ مَرْوَانُ فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا تَزَالُ تُحَدِّثُ بِأَحَادِيثَ لَا نَعْرِفُهَا، ثُمَّ انْطَلَقَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَى الْمَيِّتِ؟ قَالَ: مَعَ قَوْلِكِ آنِفًا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" كُنَّا نَقُولُ: اللهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا".
عقبہ بن سیار ایک شخص سے نقل کرتے ہیں کہ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ مروان آ کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے ابوہریرہ! آپ ہمیشہ ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جنہیں ہم جانتے نہیں، پھر وہ چلا گیا، پھر واپس آیا اور کہا: اے ابوہریرہ! میت کی نمازِ جنازہ کیسے ہے؟ انہوں نے کہا: تیری اسی بات کے ساتھ؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا: ہم کہا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا» ”اے اللہ! تو ہی اس کا رب ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6979]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6980
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَضَرْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ صَلَّى بِنَا عَلَى جِنَازَةٍ بِالْأَبْوَاءِ فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ رَافِعًا صَوْتَهُ بِهَا، ثُمَّ صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَيَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَصْبَحَ فَقِيرًا إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَصْبَحْتَ غَنِيًّا عَنْ عَذَابِهِ تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا وَأَهْلِهَا إِنْ كَانَ زَاكِيًا فَزَكِّهِ، وَإِنْ كَانَ مُخْطِئًا فَاغْفِرْ لَهُ، ⦗٧٠⦘ اللهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ"، ثُمَّ كَبَّرَ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَمْ أَقْرَأْ عَلَيْهَا إِلَّا لِتَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ" قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَغَيْرِهِمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَلَيْسَ فِي الدُّعَاءِ شَيْءٌ مُوَقَّتٌ، وَفِي بَعْضِ مَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
شرجیل بن سعد فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ مقامِ ابواء میں نمازِ جنازہ ادا کی۔ انہوں نے تکبیر کہی، پھر انہوں نے بلند آواز سے ام القرآن (سورۃ فاتحہ) پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھا، پھر یہ دعا پڑھی: «اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَيَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، أَصْبَحَ فَقِيرًا إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَصْبَحْتَ غَنِيًّا عَنْ عَذَابِهِ، تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا وَأَهْلِهَا، إِنْ كَانَ زَاكِيًا فَزَكِّهِ، وَإِنْ كَانَ مُخْطِئًا فَاغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ، تیرے بندے کا بیٹا اور تیری بندی کا بیٹا ہے، یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ گواہی دیتا ہے کہ محمد تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ یہ تیری رحمت کا محتاج ہو گیا ہے اور تو اسے عذاب دینے سے بے نیاز ہے، یہ دنیا اور اہلِ دنیا سے الگ ہو گیا ہے، اگر یہ پاکیزہ تھا تو اسے پاکیزہ فرما اور اگر یہ خطا کار تھا تو اسے بخش دے، اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر۔“ پھر تین تکبیرات کہیں، پھر سلام پھیر دیا، پھر فرمایا: اے لوگو! میں نے اسے آپ کے سامنے اس لیے پڑھا ہے تاکہ آپ جان لو کہ یہ سنت ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: نمازِ جنازہ میں دعا کے سلسلے میں بہت سی احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں، پھر عمر، علی، ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے نقل کی ہیں۔ اور دعا میں کوئی چیز مقرر نہیں ہے، مگر جو ہم نے بعض بیان کی ہیں وہ کافی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6980]
شیخ فرماتے ہیں: نمازِ جنازہ میں دعا کے سلسلے میں بہت سی احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں، پھر عمر، علی، ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے نقل کی ہیں۔ اور دعا میں کوئی چیز مقرر نہیں ہے، مگر جو ہم نے بعض بیان کی ہیں وہ کافی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6980]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الحاكم»
الحكم على الحديث: ضعيف