السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1467. -- باب: الصلاة على الميت الغائب بالنية
-- باب: غائب میت پر نیت کر کے نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 7026
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَابْنُ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ:" اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ" قَالَ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَفَّهُمْ فِي الْمُصَلَّى، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحُلْوَانِيِّ، وَالنَّاقِدُ، عَنْ يَعْقُوبَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی شاہِ حبشہ کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ فوت ہوا اور فرمایا: ”اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ گاہ میں لوگوں کی صفیں بنائیں، پھر جنازہ پڑھا اور چار تکبیرات کہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7026]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ گاہ میں لوگوں کی صفیں بنائیں، پھر جنازہ پڑھا اور چار تکبیرات کہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7026]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7027
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَاتَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَصَلُّوا عَلَى أَصْحَمَةَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے دن ایک نیک آدمی فوت ہوا ہے، سو تم اصحمہ کا جنازہ پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7027]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7028
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَلَغَهُ مَوْتُ النَّجَاشِيِّ، قَالَ:" صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ بِلَادِكُمْ"، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّنَا صُفُوفًا. قَالَ جَابِرٌ: وَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي أَوِ الثَّالِثِ، قَالَ: وَكَانَ اسْمُ النَّجَاشِيِّ أَصْحَمَةَ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ مُخْتَصَرًا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نجاشی کی موت کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کا جنازہ پڑھو جو تمہارے ملک کے علاوہ میں فوت ہوا ہے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا اور ہم نے صفیں بنائیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں دوسری یا تیسری صف میں تھا اور نجاشی کا نام اصحمہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7028]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم، بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7029
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ⦗٨٣⦘ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ". يَعْنِي النَّجَاشِيَّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ فَزَادَ فِيهِ، قَالَ:" فَصَفَّنَا خَلْفَهُ كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْمَيِّتِ وَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ كَمَا يُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ"..
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھائی (یعنی نجاشی) فوت ہو چکا ہے، اس کا جنازہ پڑھو۔“ یحییٰ بن ابی کثیر، ابو قلابہ رحمہ اللہ سے اس اضافی بات کے ساتھ نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں جیسے میت کے لیے بنائی جاتی ہیں اور ہم نے ایسے ہی جنازہ ادا کیا جیسے میت کی نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7029]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7030
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَزِيَادَتِهِ وَالنَّجَاشِيُّ كَانَ مُسْلِمًا وَفِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رُوِّينَاهُ دَلِيلٌ عَلَى ذَلِكَ.
حرب بن شداد، یحییٰ بن ابی کثیر سے ایسی ہی حدیث اسی معنیٰ میں نقل فرماتے ہیں اور نجاشی مسلمان تھا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول میں اس بات کی دلیل ہے جو ہم نے بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7030]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7031
وَفِي حَدِيثِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، فِي قِصَّةِ قُدُومِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْضَ الْحَبَشَةِ وَدُخُولِهِ عَلَى النَّجَاشِيِّ وَإِخْبَارِهِ إِيَّاهُ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا يَقُولُ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَإِعْجَابِهِ بِهِ، ثُمَّ قَوْلِهِ:" مَرْحَبًا بِكُمْ وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ، فَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَلَوْلَا مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أَحْمِلَ نَعْلَيْهِ" أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ السَّوَّاقُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، وَفِيهَا قَوْلُ النَّجَاشِيِّ الَّذِي حَكَيتُهُ.
ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے حبشہ آنے اور نجاشی کے پاس جانے اور اسے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر سے آگاہ کرنے اور اس کی عیسیٰ بن مریم کے بارے میں گفتگو اور اس کا «مَرْحَبًا» ”مرحبا“ کہنا اور یہ کہ جس کے پاس سے تم آئے ہو میں اقرار کرتا ہوں کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یقیناً وہی ہے جس کی بشارت عیسیٰ بن مریم نے دی۔ اگر میں اس ملک میں نہ ہوتا تو میں اس کے پاس آتا اور اس کے جوتے اٹھاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7031]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7032
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ فَطَلَعَتِ الشَّمْسُ بِضِيَاءٍ وَنُورٍ وَشُعَاعٍ لَمْ أَرَهَا طَلَعَتْ فِيمَا مَضَى، فَأَتَى جَبْرَائِيلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا جَبْرَائِيلُ مَا لِي أَرَى الشَّمْسَ طَلَعَتْ بِضِيَاءٍ وَنُورٍ وَشُعَاعٍ لَمْ أَرَهَا طَلَعَتْ فِيمَا مَضَى"، فَقَالَ: ذَاكَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيَّ مَاتَ بِالْمَدِينَةِ الْيَوْمَ، فَبَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ، قَالَ:" وَفِيمَ ذَلِكَ"، قَالَ: كَانَ يُكْثِرُ قِرَاءَةَ {قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: ١] بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَفِي مَمْشَاهُ، وَقِيَامِهِ، وَقُعُودِهِ، فَهَلْ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ أَقْبِضَ لَكَ الْأَرْضَ، فَتُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟، قَالَ:" نَعَمْ"، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ رَجَعَ"، الْعَلَاءُ هَذَا هُوَ ابْنُ زَيْدٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ زَيْدَلٍ لَا يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِمَنَاكِيرَ. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا الْجُنَيْدِيُّ، ثنا الْبُخَارِيُّ قَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زَيْدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَنَسٍ رَوَى عَنْهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ⦗٨٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک میں تھے اور سورج اپنی روشنی اور چمک دمک کے ساتھ طلوع ہوا۔ اس نے پہلے اس طرح طلوع کو نہیں دیکھا تھا۔ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جبرائیل! کیا بات ہے میں نے آج دیکھا ہے کہ سورج کل سے زیادہ چمک دمک کے ساتھ طلوع ہوا ہے؟“ تو جبرائیل امین نے کہا: اس وجہ سے کہ معاویہ بن معاویہ لیثی مدینے میں فوت ہوا ہے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس کی طرف ستر ہزار فرشتے بھیجے ہیں جو اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کس بات میں؟“ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: وہ رات اور دن میں اپنے چلنے، بیٹھنے اور کھڑے ہونے میں اکثر ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] (اخلاص) پڑھا کرتے تھے، اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے زمین قریب کروں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا اور واپس پلٹ آئے۔
یہ علاء، ابن زید ہیں، اور انہیں ابن زیدل بھی کہا جاتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علاء بن زید ابو محمد ثقفی، جو انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے یزید بن ہارون نے روایت کی ہے، منکر الحدیث ہیں۔ شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: یہ حدیث انس رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7032]
یہ علاء، ابن زید ہیں، اور انہیں ابن زیدل بھی کہا جاتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علاء بن زید ابو محمد ثقفی، جو انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے یزید بن ہارون نے روایت کی ہے، منکر الحدیث ہیں۔ شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: یہ حدیث انس رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7032]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابو يعليٰ»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 7033
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ يَعْنِي عَطَاءً، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نَزَلَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيُّ، أَفَتُحِبُّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ، فَضَرَبَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِجَنَاحِهِ، فَلَمْ تَبْقَ شَجَرَةٌ، وَلَا أَكَمَةٌ إِلَّا تَضَعْضَعَتْ، وَرَفَعَ لَهُ سَرِيرَهَ حَتَّى نَظَرَ إِلَيْهِ وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ كُلُّ صَفٍّ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ:" يَا جَبْرَائِيلُ بِمَا نَالَ هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ"، فَقَالَ: بِحُبِّهِ {قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: ١] وَقِرَاءَتِهِ إِيَّاهَا جَائِيًا وَذَاهَبًا وَقَائِمًا وَقَاعِدًا" أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، قَالَ مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسٍ: نَزَلَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ. لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ. سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! معاویہ بن معاویہ مزنی فوت ہو گئے ہیں۔ کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ ان کا جنازہ پڑھیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، جبرائیل علیہ السلام نے پر مارا جس سے کوئی درخت یا ٹیلہ درمیان میں نہ رہا سب ہٹ گئے اور ان کی چارپائی کو اٹھایا گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور ان کا جنازہ پڑھا، آپ کے پیچھے دو صفیں فرشتوں کی تھیں اور ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا: ”اے جبرائیل! اسے یہ مقام کیسے حاصل ہوا؟“ تو انہوں نے کہا: ”یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] سے محبت کرتا تھا اور وہ ہمیشہ آتے جاتے، بیٹھے اور کھڑے اسی کی تلاوت کرتا تھا۔“
ابن عدی فرماتے ہیں: محبوب بن ہلال مزنی نے عطاء بن ابی میمونہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے ”جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے“ والی روایت بیان کی ہے، اس پر ان کی متابعت نہیں کی گئی۔ میں نے ابن حماد کو یہ بات امام بخاری سے نقل کرتے سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7033]
ابن عدی فرماتے ہیں: محبوب بن ہلال مزنی نے عطاء بن ابی میمونہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے ”جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے“ والی روایت بیان کی ہے، اس پر ان کی متابعت نہیں کی گئی۔ میں نے ابن حماد کو یہ بات امام بخاری سے نقل کرتے سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7033]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابو يعليٰ»
الحكم على الحديث: منكر