🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1467. -- باب: الصلاة على الميت الغائب بالنية
-- باب: غائب میت پر نیت کر کے نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7033
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ يَعْنِي عَطَاءً، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نَزَلَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيُّ، أَفَتُحِبُّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ، فَضَرَبَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِجَنَاحِهِ، فَلَمْ تَبْقَ شَجَرَةٌ، وَلَا أَكَمَةٌ إِلَّا تَضَعْضَعَتْ، وَرَفَعَ لَهُ سَرِيرَهَ حَتَّى نَظَرَ إِلَيْهِ وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ كُلُّ صَفٍّ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ:" يَا جَبْرَائِيلُ بِمَا نَالَ هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ"، فَقَالَ: بِحُبِّهِ {قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: ١] وَقِرَاءَتِهِ إِيَّاهَا جَائِيًا وَذَاهَبًا وَقَائِمًا وَقَاعِدًا" أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، قَالَ مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسٍ: نَزَلَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ. لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ. سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! معاویہ بن معاویہ مزنی فوت ہو گئے ہیں۔ کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ ان کا جنازہ پڑھیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، جبرائیل علیہ السلام نے پر مارا جس سے کوئی درخت یا ٹیلہ درمیان میں نہ رہا سب ہٹ گئے اور ان کی چارپائی کو اٹھایا گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور ان کا جنازہ پڑھا، آپ کے پیچھے دو صفیں فرشتوں کی تھیں اور ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا: ”اے جبرائیل! اسے یہ مقام کیسے حاصل ہوا؟“ تو انہوں نے کہا: ”یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] سے محبت کرتا تھا اور وہ ہمیشہ آتے جاتے، بیٹھے اور کھڑے اسی کی تلاوت کرتا تھا۔“
ابن عدی فرماتے ہیں: محبوب بن ہلال مزنی نے عطاء بن ابی میمونہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے ”جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے“ والی روایت بیان کی ہے، اس پر ان کی متابعت نہیں کی گئی۔ میں نے ابن حماد کو یہ بات امام بخاری سے نقل کرتے سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7033]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابو يعليٰ»

الحكم على الحديث: منكر

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7033 in Urdu