السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1496. -- باب: الرخصة في البكاء بلا ندب ولا نياحة
-- باب: بین اور نوحہ کیے بغیر رونے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 7149
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَةِ ابْنَتِهِ وَنَفْسُهَا تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى"، قَالَ: وَبَكَى، فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ يَا رَسُولَ اللهِ أَتَبْكِي وَقَدْ نَهَيْتَ عَنِ الْبُكَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی نواسی لائی گئی اور اس کی سانس اٹک رہی تھی، جیسے مشکیزے میں ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اور جو اس نے دے دیا اور ہر ایک اپنے وقت مقررہ کی طرف جا رہا ہے۔“ اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو دیے تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ روتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی تو رونے سے منع کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک یہ تو رحمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھا ہے اور اللہ بھی اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7149]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7150
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ ⦗١١٥⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وُلِدَ لِيَ اللَّيْلَةَ غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِأَبِي إِبْرَاهِيمَ"، ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ أَبُو سَيْفٍ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهُ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَانْتَهَيْنَا إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ قَالَ: وَالْبَيْتُ مُمْتَلِئٌ دُخَانًا قَالَ فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ أَبَا سَيْفٍ فَقُلْتُ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ أَمْسِكْ، فَأَمْسَكَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِالصَّبِيِّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا، وَاللهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هُدْبَةَ وَشَيْبَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: وَرَوَاهُ مُوسَى عَنْ سُلَيْمَانَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میرے ہاں بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام اپنے باپ (کے نام) پر ابراہیم رکھا۔“ پھر اسے ام سیف کے سپرد کر دیا جو مدینہ کے ایک لوہار کی بیوی تھیں جسے ابو سیف کہا جاتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی زیارت کے لیے چلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا تو ہم ابو سیف کے پاس چلے گئے اور وہ بھٹی جلا رہا تھا اور اس کا گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے تیز تیز چلنا شروع کر دیا اور میں ابو سیف کے پاس آیا اور کہا: رک جا، رک جا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں، تو وہ رک گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ نے بچے کو منگوایا اور اپنے ساتھ چمٹا لیا اور جو اللہ نے چاہا وہ فرمایا۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اسے آپ کے سامنے دیکھا اور وہ جان کنی کی حالت میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آنکھ بہتی ہے، دل غم گین ہوتا ہے اور ہم نہیں کہتے مگر وہ بات جو ہمارے رب کو خوش کرے۔ اللہ کی قسم! اے ابراہیم! ہم تیری وجہ سے نہایت غمزدہ ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7150]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7151
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّخْلِ فَإِذَا ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: أَتَبْكِي وَأَنْتَ تَنْهَى النَّاسَ؟ قَالَ:" إِنِّي لَمْ أَنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ إِنَّمَا نَهَيْتُ عَنِ النَّوْحِ صَوْتَيْنِ أَحْمَقَيْنِ فَاجِرَيْنِ صَوْتٌ عِنْدَ نَغَمَةِ لَهْوٍ وَلَعِبٍ وَمَزَامِيرِ شَيْطَانٍ، وَصَوْتٌ عِنْدَ مُصِيبَةٍ خَمْشُ وُجُوهٍ وَشَقُّ جُيُوبٍ وَرَنَّةٌ وَهَذَا هُوَ رَحْمَةٌ وَمَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ، يَا إِبْرَاهِيمُ لَوْلَا أَنَّهُ أَمْرٌ حَقٌّ، وَوَعْدٌ صِدْقٌ وَأَنَّ آخِرَنَا سَيَلْحَقُ بِأَوَّلِنَا لَحَزِنَّا عَلَيْكَ حُزْنًا هُوَ أَشَدُّ مِنْ هَذَا، وَإِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ تَبْكِي الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھجوروں کی طرف تشریف لے گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ابراہیم اپنی جان اللہ کے سپرد کر رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بہنا شروع ہو گئیں تو سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو لوگوں کو منع کرتے ہیں اور خود رو رہے ہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے رونے سے منع نہیں کیا بلکہ میں تو نوحہ کرنے سے منع کرتا ہوں اور احمقوں کی طرح آواز نکالنے سے جو فاجر لوگ آواز نکالتے ہیں، نغمے اور لہو ولعب کے ساتھ اور شیطان کی دھن کے ساتھ اور مصیبت کے وقت اس آواز سے جس کے ساتھ چہرہ چھیلنا بھی ہو، گریبان چاک کرنا بھی ہو اور یہ رونا تو رحم ہے اور جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ اے ابراہیم! اگر یہ حق نہ ہوتا اور سچا وعدہ نہ ہوتا اور یہ کہ ہر بعد میں آنے والا پہلوں سے ملنے والا نہ ہوتا تو ہم اس قدر غم کرتے جو اس سے کہیں زیادہ ہوتا جو ہم تیری جدائی سے غم زدہ ہیں، آنکھیں رو رہی ہیں اور دل غمگین ہے اور ہم وہ بات نہیں کریں گے جو ہمارے رب کو ناراض کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7151]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7152
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَجَدَهُ فِي غَشْيَةٍ فَقَالَ:" أَقَدْ قَضَى؟" فَقَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَبَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا فَقَالَ:" أَلَا تَسْمَعُونَ أَنَّ اللهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ أَوْ يَرْحَمُ". ⦗١١٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَصْبَغَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیمار داری کے لیے آئے اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما بھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو ان پر غشی طاری تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا فوت ہو چکے ہیں؟“ تو کہا گیا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو دیے۔ جب قوم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کو دیکھا تو وہ بھی رو دیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم سنتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسوؤں سے عذاب نہیں کرتے اور نہ ہی دل کے غمناک ہونے سے، بلکہ عذاب تو اس سے ہوتا ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا ”یا رحم کیا جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7152]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح