السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1497. -- باب: من رخص في البكاء إلى أن يموت الذي يبكى عليه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے جس پر رویا جا رہا ہے اس کی موت واقع ہونے تک رونے کی رخصت دی ہے
حدیث نمبر: 7153
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ، وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَبُو أُمِّهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ"، فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" إِذَا مَاتَ".
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی تیمار داری کے لیے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان پر موت غالب آ چکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکارا مگر انہوں نے جواب نہ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے“ کہا اور فرمایا: ”اے ابو ربیع! ہم تیری طرف سے مغلوب ہو گئے۔“ تو عورتیں چیخیں اور روئیں اور ابن عتیک رضی اللہ عنہ انہیں چپ کروا رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دے، جب واجب ہو جائے تو رونے والی نہ روئے۔“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وجوب کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ فوت ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7153]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7154
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُحُدٍ سَمِعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ، فَقَالَ:" لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بَوَاكِيَ لَهُ" فَبَلَغَ ذَلِكَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فَبَكَيْنَ لِحَمْزَةَ فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُنَّ يَبْكِينَ فَقَالَ:" يَا وَيْحَهُنَّ مَا زِلْنَ يَبْكِينَ مُنْذُ الْيَوْمِ فَلْيَسْكُتْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ". وَقَدْ قِيلَ عَنْ أُسَامَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد سے پلٹے تو انصاری عورتوں کو روتے ہوئے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے والیاں نہیں ہیں۔“ تو یہ بات انصار کی عورتوں تک پہنچی تو وہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے رونے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو وہ ابھی رو رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر افسوس! ابھی تک رو رہی ہو؟ چاہیے کہ وہ خاموش ہوجائیں اور آج کے بعد کسی فوت ہونے والے پر نہ روئیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7154]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابن ماجه»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 7155
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَسَمِعَ نِسَاءَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ يَبْكِينَ عَلَى هَلْكَاهُنَّ فَقَالَ:" لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بَوَاكِيَ لَهُ" فَجِئْنَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ فَبَكَيْنَ عَلَى حَمْزَةَ عِنْدَهُ وَرَقَدَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُنَّ يَبْكِينَ فَقَالَ:" وَيْحَهُنَّ إِنَّهُنَّ لَهَاهُنَا حَتَّى الْآنَ مُرُوهُنَّ فَلْيَرْجِعْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ". وَقَوْلُهُ:" وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ" إِنْ أَرَادَ بِهِ الْعُمُومَ كَانَ كَقَوْلِهِ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَتِيكٍ:" فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ" وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ عَلَى هَالِكٍ مِنْ شُهَدَاءِ أُحُدٍ فَكَأَنَّهُ قَالَ حَسْبُكُنَّ مَا بَكَيتُنَّ عَلَيْهِمْ، وَقَدْ وَرَدَتِ الرُّخْصَةُ فِي الْبُكَاءِ بَعْدَ الْمَوْتِ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَحُزْنِ الْقَلْبِ فَيَكُونُ حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ مَحْمُولًا عَلَى الِاخْتِيَارِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوہ احد سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالاشہل کی عورتوں کو اپنے شہداء پر روتے ہوئے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حمزہ رضی اللہ عنہ پر تو کوئی رونے والا نہیں“، پھر انصاری عورتیں آئیں اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونا شروع کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر بیدار ہوئے اور وہ ابھی رو رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان پر افسوس ہے، یہ ابھی تک رو رہی ہیں، ان سے کہو کہ چلی جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں۔“
«وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ» ”اور وہ آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں۔“ اگر اس سے عموم مراد ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے سیدنا ابن عتیک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جب وہ واجب ہوجائے تو کوئی رونے والی نہ روئے۔ اس سے یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد شہدائے احد ہوں، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم نے ان پر رو لیا وہ کافی ہے“ اور موت کے بعد آنکھ کے آنسوؤں اور دل کے غم کے ساتھ رونے کی رخصت وارد ہوئی ہے، لہٰذا سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ کی حدیث کو افضل اور پسندیدہ عمل پر محمول کیا جائے گا، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7155]
«وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ» ”اور وہ آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں۔“ اگر اس سے عموم مراد ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے سیدنا ابن عتیک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جب وہ واجب ہوجائے تو کوئی رونے والی نہ روئے۔ اس سے یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد شہدائے احد ہوں، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم نے ان پر رو لیا وہ کافی ہے“ اور موت کے بعد آنکھ کے آنسوؤں اور دل کے غم کے ساتھ رونے کی رخصت وارد ہوئی ہے، لہٰذا سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ کی حدیث کو افضل اور پسندیدہ عمل پر محمول کیا جائے گا، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7155]
تخریج الحدیث: «منكر۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: منكر