🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1500. -- باب: من كره النعي والإيذان والقدر الذي لا يكره منه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے موت کی خبر دینے اور اعلان کرنے کو مکروہ سمجھا ہے اور اس مقدار کا بیان جس میں کراہت نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7179
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ الْعَبْسِيَّ، ثنا بِلَالٌ الْعَبْسِيُّ، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ إِذَا كَانَتْ فِي أَهْلِهِ جِنَازَةٌ لَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَحَدًا وَيَقُولُ:" إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ" ⦗١٢٤⦘ وَيُرْوَى فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ عَنْ عَلْقَمَةَ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ وَالرَّبِيعِ بْنِ خَيْثَمٍ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ وَبَلَغَنِي عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا أُحِبُّ الصِّيَاحَ لِمَوْتِ الرَّجُلِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ وَلَوْ وَقَفَ عَلَى حِلَقِ الْمَسَاجِدِ فَأَعْلَمَ النَّاسِ بِمَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ بِهِ بَأْسٌ وَرُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى جَعْفَرًا وَزَيْدًا وَابْنَ رَوَاحَةَ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى النَّجَاشِيَّ وَعَنْهُ فِي مَوْتِ الْإِنْسَانِ الَّذِي كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ وَدُفِنَ لَيْلًا أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي وَفِي رِوَايَةٍ مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي؟.
بلال عبسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں جب کوئی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی کسی کو اطلاع نہ دیتے اور فرماتے: ”مجھے ڈر ہے کہ یہ نعی (موت کا اعلان) نہ ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعی سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔“
اس بارے میں سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہم سے، پھر علقمہ، ابن مسیب، ربیع بن خثیم اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ سے بھی روایت کیا جاتا ہے۔ مالک بن انس رحمہ اللہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: کسی آدمی کی موت پر مسجدوں کے دروازوں پر چیخنا مجھے پسند نہیں، اور اگر کوئی مسجدوں کے حلقوں کے پاس کھڑا ہو کر لوگوں کو اس کی موت کی اطلاع دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہمیں روایت پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر، زید اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی موت کی خبر دی، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی موت کی خبر دی، اور انہی سے اس آدمی کی موت کے بارے میں جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا اور رات کو دفن کر دیا گیا: ”تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟“ اور ایک روایت میں ہے: ”تمہیں مجھے آگاہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7179]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ترمذي»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7180
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ الْوَاشِحِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ رَافِعٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، مَاتَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَأُتِيَ ابْنُ عُمَرَ فَأُخْبِرَ بِمَوْتِهِ، فَقِيلَ لَهُ مَا تَرَى أَيُخْرَجُ بِجِنَازَتِهِ السَّاعَةَ فَقَالَ:" إِنَّ مِثْلَ رَافِعٍ لَا يُخْرَجُ بِهِ حَتَّى يُؤْذَنَ بِهِ مَنْ حَوْلِنَا مِنَ الْقُرَى فَأَصْبِحُوا وَاخْرُجُوا بِجِنَازَتِهِ".
ابن رافع اپنی دادی سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ عصر کے بعد فوت ہوئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ان کی موت کی خبر دی گئی اور ان سے کہا گیا کہ کیا خیال ہے ان کا جنازہ ابھی نکالا جائے؟ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رافع جیسے آدمیوں کا جنازہ نہیں نکالا جا سکتا جب تک قریب کی بستیوں میں اعلان نہ کر دیا جائے، لہٰذا صبح تک ٹھہرو اور پھر ان کا جنازہ لے کر نکلو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7180]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبراني»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7181
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كُنَّا مَقْدِمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرَ مِنَّا الْمَيِّتُ آذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَضَرَهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ حَتَّى إِذَا قُبِضَ انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ حَتَّى يُدْفَنَ وَرُبَّمَا قَعَدَ وَمَنْ مَعَهُ حَتَّى يُدْفَنَ، وَرُبَّمَا طَالَ حَبْسُ ذَلِكَ عَلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا خَشِينَا مَشَقَّةَ ذَلِكَ عَلَيْهِ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِبَعْضٍ: لَوْ كُنَّا لَا نُؤْذِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحَدٍ حَتَّى يُقْبَضَ فَإِذَا قُبِضَ آذَنَّاهُ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ مَشَقَّةٌ وَلَا حَبْسٌ فَفَعَلْنَا ذَلِكَ فَكُنَّا نُؤْذِنُهُ بِالْمَيِّتِ بَعْدَ أَنْ يَمُوتَ فَيَأْتِيَهُ وَيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، وَرُبَّمَا انْصَرَفَ وَرُبَّمَا مَكَثَ حَتَّى يُدْفَنَ الْمَيِّتُ فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ حِينًا ثُمَّ قُلْنَا لَوْ لَمْ نُشْخِصِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلْنَا جِنَازَتَنَا إِلَيْهِ حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهِ عِنْدَ بَيْتِهِ لَكَانَ ذَلِكَ أَرْفَقَ بِهِ فَفَعَلْنَا فَكَانَ ذَلِكَ الْأَمْرُ إِلَى الْيَوْمِ".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ) تشریف لائے تھے تو جب ہم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آتا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور اس کے لیے استغفار کرتے۔ جب وہ فوت ہوجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی واپس چلے جاتے۔ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دفن ہونے تک بیٹھ جاتے اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ٹھہرنا زیادہ ہوجاتا۔ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشقت سے ڈرے تو کچھ لوگوں نے دوسروں سے کہا کہ کیوں نہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تب اطلاع کریں جب آدمی فوت ہوجائے، پھر جب وہ فوت ہوجاتا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرتے اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت نہ ہوتی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ رکنا پڑتا، پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میت کے فوت ہونے کے بعد اطلاع دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور جنازہ پڑھتے، کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جاتے اور کبھی میت کے دفن تک رک جاتے۔ پھر ہم کچھ عرصہ ایسے ہی کرتے رہے۔ پھر ہم نے کہا: اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زحمت نہ دیں اور جنازہ اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے پاس ہی اس کا جنازہ پڑھیں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زیادہ آسان ہوگا۔ پھر ہم نے ایسا ہی کیا اور وہ معاملہ آج تک ایسے ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7181]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أحمد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں